بھارت

نئی دلی : پولیس نے جنترمنتر پراحتجاج کے دوران مسلم ارکان پارلیمنٹ سمیت متعدد افراد حراست میں لیے

نئی دلی:  بھارت بھر میں مساجد ، مدارس، زیارت گاہوں کی مسماری ، ووٹر فہرستں کی خصوصی تفصیلی نظرثانی(ایس آئی آر) ، مسلمانوں اور دیگراقلیتوںکے خلاف تشدد کے خلاف جنتر منتر پر احتجاج کے دوران پولیس نے مسلم ارکانِ پارلیمنٹ اور کمیونٹی کے ممتاز رہنماں سمیت متعدد افراد کو حراست میں لے لیا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق، یہ احتجاج منگل کو ‘مانیٹرنگ کمیٹی آف انڈین مسلمزکے زیرِ اہتمام منعقد کیا گیا۔ دہلی پولیس نے سنبھل کے رکن پارلیمنٹ ضیا الرحمان برق، رام پور کے رکن پارلیمنٹ محب اللہ ندوی، کیرانہ کی رکن پارلیمنٹ اقرا منور حسن اور خواتین سمیت کئی دیگر مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔ ‘ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس’کے قومی سیکرٹری ندیم خان کو احتجاج سے قبل ہی نظر بند کر دیا گیا تھا۔
اس مظاہرے میں ارکانِ پارلیمنٹ، سول سوسائٹی کے اراکین، سماجی کارکنوں اور مسلم تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی، جن میں جماعتِ اسلامی ہند کے سربراہ سید سعادت اللہ حسینی، سابق رکن پارلیمنٹ کنور دانش علی، اے آئی ایم آئی ایم دہلی ریاستی صدر ڈاکٹر شعیب جمائی، ماہرِ تعلیم و سماجی کارکن اپوروانند، کانگریس رہنما میناکشی سنگھ، جماعتِ اسلامی ہند کے نائب صدر ملک معتصم خان، ایس آئی او کے صدر عبدالفیض اور اے پی سی آر مدھیہ پردیش کے ضیا پٹھان شامل تھے۔
حراست میں لیے جانے والوں میں ملک معتصم خان، عبدالفیض، ضیا پٹھان اور ‘فرٹرنٹی موومنٹ’ کے قومی جنرل سیکرٹری لبائب بشیر سمیت کئی دیگر کارکن بھی شامل تھے، جنہیں مختلف تھانوں میں لے جایا گیا۔
قبل ازیں کیرانہ کی رکن پارلیمنٹ اقرا منور حسن نے مظاہرے سے خطاب میں کہا کہ قانون سے نا واقف نتظامیہ یہ سب کچھ حکومت کے اشارے پر کر رہی ہے۔ یہ سراسر امتیازی رویہ ہے۔ ہمارا ملک اس طرح آگے نہیں بڑھ سکتا۔انہوں نے کہا،مسلمانوں کو اپنی مساجد، مدارس، قبرستانوں اور دیگر اداروں پر ہونے والے حملوں کے خلاف احتجاج کرنے کا بنیادی حق حاصل ہے۔
سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ ضیا الرحمن برق نے کہا ہمیں خاموش نہیں کرایا جا سکتا۔ہماری جدوجہد آخری سانس تک جاری رہے گی۔ مظاہرین نے "اقلیتوں کو سکون سے جینے دو، بلڈوزر کارروائی بند کرو،مسجدوں پر حملے بند کرو” جیسے نعرے لگائے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button