مقبوضہ کشمیر کی ریاستی حیثیت کے معاملے پر بی جے پی کی غداری بے نقاب ہو چکی ہے:کانگریس
جموں:غیر قانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں انڈین نیشنل کانگریس نے جائیدادوں، ملازمتوں اور قدرتی وسائل کے تحفظ کی آئینی ضمانتوں کے ساتھ مقبوضہ علاقے کی مکمل ریاستی حیثیت کی بحالی کا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت اس سلسلے میں کشمیریوں سے کئے گئے اپنے وعدوں کی پاسداری نہ کرکے مکمل طور پر بے نقاب ہو چکی ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں انڈین نیشنل کانگریس کے ورکنگ پریذیڈنٹ رمن بھلا اور دیگر رہنمائوں نے جموں میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مودی حکومت اور بی جے پی کو جموں وکشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی میں مسلسل تاخیر پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ گزشتہ 7 سال کے دوران بھارتی پارلیمنٹ ، سپریم کورٹ اور عوامی اجتماعات میں بارہا کشمیری عوام سے جموں وکشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی وعدہ کر چکے ہیں ۔
کانگریسی رہنمائوں نے اعلان کیا کہ پارٹی "ووٹ چوری” کے خلاف ‘انڈیا’اتحاد کی ملک گیر احتجاجی مہم کے ساتھ ساتھ ریاستی حیثیت کی بحالی کی تحریک "ہماری ریاست، ہمارا حق” میں بھی تیزی لائے گی۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کا اصل چہرہ بے نقاب ہو چکا ہے اورمقبوضہ کشمیر اسمبلی میں مکمل ریاستی حیثیت کی بحالی کے لیے دوسری بار قرارداد کی منظوری اس بات کی علامت ہے کہ کشمیری عوام میں مودی حکومت کے خلاف شدید ناراضگی پائی جاتی ہے۔
اسمبلی میں کانگریس کے چیف وہپ نظام الدین بھٹ نے کہاکہ ریاستی حیثیت جموں و کشمیر کے عوام کا حق ہے۔ کشمیری عوام کوئی نئی چیز نہیں مانگ رہے بلکہ یہ وعدہ انسے وزیر اعظم اور وزیر داخلہ متعدد بار کر چکے ہیں ۔
انہوں نے کہاکہ پہلے دن سے ہی کانگریس کا موقف واضح ہے کہ ہم زمین اور ملازمتوں کے لیے آئینی ضمانتوں کے ساتھ مکمل ریاستی حیثیت چاہتے ہیں ۔انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ بھارتی حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے پر بھی عمل درآمد نہیں کر رہی اور جموں و کشمیر میں منتخب حکومت کی موجودگی کے باوجود بالواسطہ حکمرانی کے لیے ریاست کا درجہ بحال کرنے میں تاخیر کر رہی ہے، جو عوام کے مینڈیٹ اور جمہوریت کی روح کی نفی ہے۔







