خصوصی رپورٹ

عدم تشدد کے عالمی دن پر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اجاگر

عالمی برادری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور سیاسی ناانصافیوں کا نوٹس لے

اسلام آباد:دنیا بھر میں آج عدم تشدد کا عالمی دن منایا جا رہا ہے، تاہم نریندر مودی اور امت شاہ کی زیر قیادت بی جے پی کی ہندوتو احکومت کی طرف سے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے عوام کئی دہائیوں سے سیاسی ناانصافی، تشدد اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا سامنا ہے ۔
کشمیر میڈیا سروس کی جانب سے آج جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے لیے عدم تشدد کے عالمی دن کی کوئی اہمیت نہیں ہے کیونکہ انہیں مسلسل سیاسی نا انصافیوں،بھارتی فورسز کی طرف سے ظلم وتشدد ،قتل عام اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں ، پابندیوں، گرفتاریوں اور دیگر جبری اقدامات کا سامناہے۔ بھارتی فورسز کو مقبوضہ علاقے میں رائج کالے قوانین کے تحت انسانی حقوق کی پامالیوں اور کشمیریوںکے قتل عام پر مکمل استثنیٰ حاصل ہے ۔
رپورٹ کے مطابق جنوری 1989 سے اب تک بھارتی فورسز نے مقبوضہ علاقے میں 96ہزار507کشمیریوں کو شہید کیا ہے، جن میں مرد، خواتین اور بچے شامل ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ماورائے عدالت قتل، دوران حراست قتل ، جعلی مقابلوں اور طاقت کے وحشیانہ استعمال سمیت دیگر ظالمانہ اقدامات نے کشمیری عوام کوزندگیاںاجیرن بنادی ہیں ۔
رپورٹ میں مہاتما گاندھی کی سالگرہ منانے کے بھارتی اقدام اور بھارت میں کشمیریوں اور دیگراقلیتی برادریوں کو درپیش تشدد اور امتیازی سلوک کے درمیان تضاد پر سوال اٹھایا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کیا گاندھی کے فلسفہ عدم تشدد سے وابستہ اصولوں کا موازنہ مقبوضہ کشمیر میں دہائیوں سے جاری پابندیوں، گرفتاریوں اورقتل عام کے واقعات سے کیا جا سکتا ہے؟
رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارت میں مسلمان، دلت، قبائلی، سکھ اور مسیحیوں سمیت مختلف اقلیتی برادریوں بھی امتیازی سلوک، تعصب اور تشدد کا سامنا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2014 کے بعد سے بی جے پی کی حکومتوں کے دوران اقلیتوں کے ساتھ سلوک کے حوالے سے خدشات مزید نمایاں ہوئے ہیں۔
رپورٹ میں بی جے پی حکومت کی بعض پالیسیوں کو آر ایس ایس سے وابستہ ہندوتوا سیاسی ایجنڈے کے تناظر میں بیان کرتے ہوئے کہا گیا کہ ان پالیسیوں نے کشمیر یوں اور بھارت کی دیگر اقلیتوں کے لیے سیاسی اور سماجی ماحول کو مزید محدود کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق نام نہاد سکیورٹی اقدامات اور انتقامی پالیسیوں کے ذریعے کشمیریوں کی سیاسی آواز اور ان کی الگ شناخت اور اپنے مادروطن سے وابستگی کو متاثر کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوج اور پیراملٹری فورسز اہلکاروں کی مسلسل تعیناتی، سیاسی سرگرمیوں پر پابندیاں، سیاسی رہنمائوں اور کارکنوں کی گرفتاریاں اور آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ ، پبلک سیفٹی ایکٹ اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون جیسے کالے قوانین کے استعمال نے خوف اور جبر کے ماحول میں مزید اضافہ کیا ہے۔
رپورٹ میں 5 اگست 2019 کے بھارت کے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ بھارتی حکومت کی جانب سے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی اورمقبوضہ علاقے کو دویونین ٹیریٹریز میں تقسیم کرنے کے بعد مقبوضہ علاقے میں بڑے پیمانے پر پابندیاں عائد اور بھارتی فورسز کی بھاری تعداد تعینات کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق اگست 2019 کے بعد سیاسی سرگرمیوں، آزادی اظہار اور عوامی اجتماعات پر مزید پابندیاں عائد کی گئیں، جسے بھارت کی جانب سے عدم تشدد کے اصولوں کے عوامی حوالوں اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں اختیار کی گئی پالیسیوں کے درمیان تضاد کے طور پر بیان کیا گیا۔
رپورٹ میں عالمی برادری، انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوام متحدہ پر زور دیاگیاہے کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور سیاسی ناانصافیوں کا فوری نوٹس لیں اور بین الاقوامی قانون اورانسانی حقوق کے اصولوں کے احترام کیلئے بھارت پر دبائو بڑھائیں۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ کشمیر کے دیرینہ سیاسی تنازعے کو طاقت کے استعمال سے حل نہیں کیا جا سکتا اور تنازعے پائیدار حل کے لیے کشمیری عوام کی امنگوں اور حقوق کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک پرامن سیاسی عمل ضروری ہے۔
رپورٹ میں بھارت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ مقبوضہ علاقے میں ظالمانہ فوجی پالیسیاں ختم، سیاسی قیدیوں کو رہا اور کشمیری عوام کی بنیادی آزادیوں کو بحال کرے۔
رپورٹ میں مزیدکہا گیا کہ عدم تشدد کا عالمی دن محض علامتی موقع نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے امن، انسانی وقار، سیاسی آزادی اور انسانی حقوق کے احترام کے اصولوں کی تجدید کے موقع کے طور پر استعمال کیا جانا چاہیے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button