پاکستان سے مسائل کے حل کے لیے بات چیت کرنے کی بی جے پی میں ہمت نہیں: منی شنکر ایئر
سرینگر:سابق بھارتی وزیر منی شنکر ایئر نے پاکستان کے ساتھ مذاکرات سے انکار پر بی جے پی کی زیر قیادت بھارتی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے طنزیہ انداز میں کہا ہے کہ حکومت کو سرجیکل اسٹرائیکس کرنے کی تو ہمت ہے، لیکن مسائل کے حل کے لیے بات چیت کرنے کی ہمت نہیں۔
کانگریس کے سینئر رہنما نے سرینگر میں منعقدہ پانچویں ہلا بول کانکلیو سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ماضی کے مسائل پر بحث کرتے رہنا خارجہ پالیسی نہیں ہے، انہوں نے اٹاری واہگہ سرحد پر مذاکرات شروع کرنے کی تجویز دی۔انہوں نے کہاکہ ہمیں پاکستان کے خلاف سرجیکل اسٹرائیکس کرنے کی ہمت توہے، لیکن ہمارے اندر ان کے ساتھ میز پر بیٹھنے کی ہمت کیوں نہیں؟ ہم ان سے بات کیوں نہیں کر سکتے؟ ہم ان سے دوستی کیوں نہیں کر سکتے؟ انہوں نے کہا کہ سمجھدار ممالک ایک دوسرے سے بات کرتے ہیں جبکہ احمق ممالک ایسا نہیں کرتے۔منی شنکر ایئر نے کہا کہ مذاکرات کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے، جو معاملات حل ہو سکتے ہیں ان پر فوری عمل کیا جائے جبکہ جن معاملات پر اتفاق نہیں ہو سکتا، انہیں اس وقت تک موخر کر دیا جائے جب تک ماحول سازگار نہ ہو جائے۔انہوں نے کہا، ہمیں سرینگر سے بات کرنی ہے، سرینگر کو جموں سے بات کرنی ہے، سڑکوں پر اٹھنے والی آواز کو بھارت اور پاکستان کی حکومتوں کے درمیان ہونے والی بات چیت میں شامل کرنا ہوگا۔ منی شنکرایئر نے کہا کہ بھارت کے سیاسی ماحول کو اسی وقت درست کیا جا سکتا ہے جب تمام غیر ہندوتوا سیاسی جماعتیں انڈیا اتحاد کے تحت متحد ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ اتحاد 2024میں مضبوط اور متحد ہوتا تو اسے اکثریت حاصل ہو جاتی اور کشمیر کو دوبارہ ریاست کا درجہ مل جاتا، حتی کہ ممکن ہے کہ دفعہ 370اور 35 اے بھی کسی قدر مختلف شکل میں بحال ہو جاتے۔انہوں نے انتخابی فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی (SIR)کے تنازعے کے دوران بھارتی چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے اقدامات کو بھی شرمناک اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اب تک کا بدترین الیکشن کمیشن ہے۔







