مقبوضہ جموں و کشمیر

جموں میں بھارتی فوجی نے پھندا لگاکر خودکشی کرلی

جموں:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرکے ضلع جموں میں ایک بھارتی فوجی نے فوجی کیمپ کے اندر پھندا لگاکرخودکشی کرلی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی ریاست مہاراشٹر سے تعلق رکھنے والے 45سالہ نائیک واگھ امبیڈیس کی لاش چھنی ہمت کے علاقے میں واقع بھارتی فوج کے سنجوان کیمپ میں ایک شیڈ کے اندر پھندے سے لٹکی ہوئی پائی گئی۔حکام نے بتایا کہ فوجی کی لاش کو پوسٹ مارٹم اور دیگر قانونی کارروائیوں کے لیے گورنمنٹ میڈیکل کالج اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔واقعے کی تحقیقات جاری ہے۔
مقبوضہ جموں و کشمیر میں تعینات بھارتی فورسز کے اہلکاروں میں خودکشی اور آپسی جھڑپوں کے واقعات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ مبصرین کے مطابق جنگ زدہ علاقے میں طویل تعیناتی، ڈیوٹی کے اضافی اوقات، چھٹیاں نہ ملنا، بے گناہ شہریوں پر مظالم، گھریلو مسائل، ذہنی دباو اور فوجیوں میں بڑھتاہوا احساس محرومی ان واقعات میں اضافے کی اہم وجوہات میں شامل ہیں۔
اہلخانہ سے مسلسل دوری اور کٹھن آپریشنل ماحول بھارتی فوجیوں کے اعصاب کو بری طرح مفلوج کر رہا ہے۔ماہرین اعلی افسران کا نازیبا رویہ اور عزت نفس مجروح ہونے کے واقعات کوفوجی اہلکاروں کے ذہنی دباو میں اضافے کا باعث قراردے رہے ہیں۔ چھٹی نہ ملنا،ادارہ جارتی بے حسی ، اورناقص خوراک بھی خودکشی کے بڑھتے ہوئے واقعات کی بڑی وجہ ہیں۔ بھارتی وزارتِ دفاع کے مرتب کردہ سرکاری اعداد و شمارکے مطابق 2001سے یہ جان لیوا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ ہر سال تقریباً 100سے 140 فوجی خودکشی کرتے ہیں۔صرف 2016سے 2018کے دوران فوج میں دو سو انسٹھ خودکشی کے واقعات ریکارڈ کیے گئے ۔مقبوضہ کشمیر، چھتیس گڑھ اور شمال مشرق کے شورش زدہ خطے فوجی اہلکاروں کے لیے قبرستان بن چکے ہیں۔ شدید تنا ومیں جکڑے فوجیوںکے لیے موثر نفسیاتی تحفظ کا کوئی مربوط نظام موجود نہیں۔ بھارتی فوج میں ہر تیسرے دن ایک فوجی خودکشی کرتا ہے یا ساتھی اہلکار کی فائرنگ سے ہلاک ہو تاہے۔2014اور 2024کے دوران بھارتی فوج کے 983اہلکاروں نے خودکشی کی جن میں بحریہ کے 96اورفضائیہ کے 246اہلکار شامل ہیں۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں 2007سے اب تک خودکشی کرنے والے اہلکاروں کی تعداد700 کے قریب ہے۔ چھتیس گڑھ میں2019سے اب تک فورسز کے 177اہلکار خودکشی کر چکے ہیں۔ ریاست میں 18 اہلکار اپنے ساتھیوں کے قتل میں ملوث پائے گئے۔ ہر سال مرنے والوں کی یہ تعداد اوسطا ستائیس سے اٹھتیس کے درمیان ریکارڈ کی گئی ہے۔ بھارتی فوج کے اندر خودکشیاں اور ساتھیوں پر فائرنگ اب ایک مستقل ناسور بن چکی ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button