چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کامطالبہ اب نوجوانوں کی آواز بن چکی ہے
کاکروچ جنتاپارٹی کا 10اکتوبر کو ملک گیر احتجاج کا اعلان
نئی دہلی: بھارت میں انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی کے تنازعے اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے کے حق میں شروع ہونے والی تحریک اب ملک بھر کے نوجوانوں کی آواز بن چکی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق نوجوانوں کی تنظیم کاکروچ جنتا پارٹی نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے کے حق میں 10اکتوبر کو ملک گیر احتجاج کا اعلان کیا ہے، جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے بھی الیکشن کمیشن کے خلاف احتجاجی مارچ اور جمہوریت بچائو ریلیاں نکالنے کا اعلان کیا ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی کے رہنما سورو داس نے 10اکتوبر سے ملک گیر سطح پر بڑے عوامی مظاہروں کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ نوجوانوں کے حقوق اور مستقبل کی جدوجہد ہر حال میں جاری رہے گی۔
انہوں نے کہا کہ انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی کے معاملے پر شروع ہونے والی تحریک اب ملک بھر کے نوجوانوں کی آواز بن چکی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی طرف سے پارٹی رہنمائوں کو گرفتار کرکے احتجاجی تحریک دبانے کی کوشش سے یہ تحریک نہیں رکے گی ۔ سی جے پی رہنما ابھی جیت دیپکے نے وزیر داخلہ مت شاہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ 10اکتوبر کو بھارت بھر میں لوگ سڑکوں پر نکلیں گے اور مودی حکومت کتنے افراد کو گرفتار کرے گی۔
ادھر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے پر نئی دہلی سمیت مختلف شہروں میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ اتوار کو نئی دہلی میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جبکہ پولیس کے مطابق جھڑپوںمیں متعدد اہلکار زخمی ہوئے اور کئی افراد کو حراست میں لیا گیا۔
مظاہرین انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی کے دوران مبینہ بے ضابطگیوں اور بڑی تعداد میں ووٹروں کے نام فہرستوں سے نکالے جانے پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ ممبئی میں بھی ہزاروں افراد نے احتجاجی مارچ کیا اور چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ کیا جبکہ نئی دہلی میں پولیس نے انڈیا گیٹ کے اطراف سکیورٹی بڑھا دی اور مظاہرین کو جمع ہونے سے روک دیا۔ پریس کلب آف انڈیا نے احتجاج کے دوران تین خاتون صحافیوں کی جانب سے پولیس اہلکاروں کی طرف سے مبینہ جنسی ہراسانی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مودی حکومت سے میڈیا کو آزادانہ طور پر کام کرنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔پولیس نے خواتین صحافیوں کے ساتھ جنسی ہراسانی کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں نے نئی دہلی میں الیکشن کمیشن کے دفتر کی طرف مارچ اور ملک بھر میں جمہوریت بچائو ریلیاں منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔






