بھارت

مودی کے دور میں ہجوم کے ہاتھوں اقلیتوں کا قتل معمول بن گیا

ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کی نئی کتاب میں انکشاف

نئی دہلی : بھارت میں مودی کی زیرقیادت بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کے پہلے 2ادوار میں ہجوم کے ہاتھوں تشدد دہشت گردی کی ایک منفرد شکل اور نیا معمول بن گیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بھارتی اسلامک اسکالر، مصنف، سینئر صحافی اور انسانی حقوق کے کارکن ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کی نئی کتاب
” Mob Lynchings in India: A Record, 2014-2024” میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارت میں 2014میں مودی کے برسر اقتدار آنے کے بعد10سال کے دوران ہندوتوا بلوائیوں کے ہاتھوں قتل کے 1743واقعات ریکارڈ کیے گئے۔
دہلی اقلیتی کمیشن کے سابق چیئرمین ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کے مطابق ہجوم کے تشدد کے زیادہ تر واقعات نفرت پر مبنی جرائم ہیں جن میں مسلمانوں، عیسائیوں اور دلتوں سمیت اقلیتوں کو بڑی تعداد میں نشانہ بنایا گیا۔
متاثرین پر مذہب کی تبدیلی، گائے ذبح کرنے، بچوں کے اغوا اور دیگر الزامات عائد کر کے تشدد کیا گیا۔
ڈاکٹر ظفرالاسلام خان نے بھارتی پولیس اور بعض سیاسی عناصر کے کردار پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ مجرموں کو بر وقت سزا نہ ملنے سے ایسے واقعات کی حوصلہ افزائی ہوئی۔ان کا کہنا تھا کہ ہجوم کے ہاتھوں قتل کے واقعات اس لیے جاری ہیں کہ سیاست دانوں، عوام اور پولیس کے ایک بڑے طبقے نے اسے معمول اور قابلِ قبول عمل کے طور پر تسلیم کر لیا ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button