مضامین

مردم شماری یا نوآبادیاتی منصوبہ؟

مقبوضہ کشمیر کی مسلم اکثریت اورحقِ خودارادیت پر ایک اور وار

ارشد میر

قابض اور ہندو فسطائی مودی سرکارمقبوضہ جموں و کشمیر پراپنے ناجائز قبضے اور فوجی موجودگی کو مزید مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ علاقے میں مردم شماری کے ذریعے اپنے نوآبادیاتی منصوبے کو بھی آگے بڑھا رہی ہے جس کا مقصد مقبوضہ علاقے کی مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنا ہے۔مقبوضہ جموں و کشمیر اور لداخ خطے میں مردم شماری کا عمل جاری ہے جس کے دوران بھارتی فوج، پیراملٹری فورسز اور پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔ اس عمل کو محض آبادی کے اعدادوشمار جمع کرنے کی ایک انتظامی سرگرمی سمجھنا اس کے سیاسی مضمرات سے صرفِ نظر کرنے کے مترادف ہوگا۔ چنانچہ کل جماعتی حریت کانفرنس کے اس انتباہ کی اصل اہمیت بھی یہی ہے کہ مودی سرکار مردم شماری، ڈومیسائل قوانین، اراضی کی الاٹمنٹ اور انتخابی قواعد میں تبدیلیوں کے ذریعے مقبوضہ علاقے کی مسلم اکثریتی شناخت اور سیاسی مستقبل پر دوررس اثرات مرتب کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ حریت قیادت نے غیر مقامی افراد کو مردم شماری میں شامل کرنے سے باز رہنے کا مطالبہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایسے اقدامات جاری رہے تو کشمیری عوام بھرپور احتجاجی تحریک شروع کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ اس موقف کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ جس خطے کے مستقبل کا فیصلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا ابھی باقی ہے، وہاں اس کے باشندوں کی آبادی، شناخت اور سیاسی نمائندگی سے متعلق یک طرفہ فیصلے کسی طور غیر متنازع انتظامی معاملات نہیں ہوسکتے۔
اس خدشے کی بنیاد سمجھنے کے لیے 5 اگست 2019ء کے اقدامات کو پیشِ نظر رکھنا ضروری ہےجب بھارتی حکومت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرکے اس کو دو وفاقی علاقوں، جموں و کشمیر اور لداخ، میں تقسیم کردیا۔ اس اقدام نے علاقے کے آئینی، انتظامی اور سیاسی ڈھانچے میں بنیادی تبدیلی پیدا کی۔ اس کے بعد بھارتی حکومت نے ایسے قوانین متعارف کرائے جن کے ذریعے ڈومیسائل کے تعین، سرکاری ملازمتوں اور مقامی باشندے ہونے کے قانونی معیار میں تبدیلیاں آئیں۔
بھارتی حکومت کی اپنی سرکاری دستاویزات اس تبدیلی کی نوعیت واضح کرتی ہیں۔ جموں و کشمیر گرانٹ آف ڈومیسائل سرٹیفکیٹ رولز 2020ء کے تحت بعض شرائط پوری کرنے والے افراد کو ڈومیسائل سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کا اہل قرار دیا گیا۔ بھارتی وزارتِ داخلہ کے مطابق 31 دسمبر 2020ء تک ڈومیسائل سرٹیفکیٹس کے اجرا کے لیے 35 لاکھ 44 ہزار 938 درخواستیں موصول ہوئی تھیں اور ان میں سے 32 لاکھ 31 ہزار 353 درخواست گزاروں کو سرٹیفکیٹ جاری کیے جا چکے تھے۔
یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 2919 کی آئینی جارحیت کے بعد سے کتنے بڑے پیمانے پر آبادیاتی ساخت کو تبدیل کرنے کا عمل شروع کیا گیا ہے۔کشمیری عوام کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ ان تبدیلیوں سے ان کی شناخت، زمین، روزگار، سیاسی نمائندگی اور مستقبل کے تعین کا حق کس حد تک متاثر ہوں گے؟
مردم شماری کسی بھی ملک میں حکمرانی، وسائل کی تقسیم اور عوامی ضروریات کے تعین کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے لیکن ایک متنازع علاقے میں اس کی شفافیت، قانونی حیثیت اور طریقۂ کار کہیں زیادہ اہم ہوجاتے ہیں۔ اگر کسی آبادی، اور وہ بھی ایک مسلمہ متنازعہ علاقہ کی آبادی کو یہ خدشہ ہو کہ مردم شماری کے نتائج اس کی اکثریتی حیثیت، سیاسی نمائندگی یا مستقبل کے حقِ خودارادیت پر اثرانداز ہونے کے لیے استعمال کیے جا رہےہیں تو عالمی برادری کا سامنے آکر اس کے تحفظات دور کرنا بنتا ہے نہ کہ اسے جابر طاقت کے رحم و کرم پہ چھوڑدینا کہ وہ بڑی آسانی سے ایسے سنگین منصوبوں کی تکمیل کے لئے اس آبادی کو جبرکی زنجیروں میں باندھ کر خاموش کرائے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں فوج، پیراملٹری فورسز اور پولیس کی بھاری تعیناتی کے ماحول میں مردم شماری کا انعقاد اس لیے بھی سوالات کو جنم دیتا ہے کہ شہریوں کے اعتماد، آزادانہ شرکت اور اعدادوشمار کی غیر جانب داری کو کس طرح یقینی بنایا جائے گا؟
مسئلہ صرف مردم شماری میں کسی غیر مقامی فرد کے اندراج کا ہی نہیں بلکہ ان اقدامات کے مجموعی تناظر کا بھی ہے جو 5 اگست 2019ء کے بعد سامنے آئے۔ یہ اقدامات کشمیری عوام کی وسیع تر سیاسی رضامندی کے بغیر نافذ کیے گئے اور ان کے نتیجے میں علاقے کے آئینی و انتظامی ڈھانچے میں بنیادی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ کشمیریوں کی نگاہ میں یہ محض آئینی دفعات کی منسوخی نہیں بلکہ اس سیاسی بندوبست کو یک طرفہ طور پر بدلنے کی کوشش تھی جس کا تعلق خطے کی متنازع حیثیت اور اس کے عوام کے مستقبل سے ہے۔
اسی تناظر میں ڈومیسائل قوانین میں تبدیلیوں اور غیر مقامی افراد کے لیے رہائش، ملازمت اور اراضی کے حصول کے مواقع کی توسیع کو دیکھا جاتا ہے۔ کشمیریوں کے سروں پر یہ سوال تلوار کی طرح لٹک رہا ہے کہ اگر بیرونی آبادی کی مستقل آبادکاری اور مقامی وسائل تک رسائی کے لیے نئے راستے اسی طرح کھولے جاتے رہے تو وقت گزرنے کے ساتھ ان کی معاشی خودمختاری، روزگار کے مواقع اور سیاسی وزن ختم ہوکر رہ جائے گا۔
مقبوضہ جموں و کشمیر میں آبادی کے تناسب سے متعلق خدشات کی بنیاد ان قانونی اور انتظامی تبدیلیوں میں موجود ہے جن کے ذریعے مقامی باشندوں اور غیر مقامی افراد کے درمیان پہلے سے قائم امتیازات تبدیل ہوئے۔ اگست 2019ء کے بعد ڈومیسائل کے نئے قواعد نے غیر مقامی افراد کے لیے بھی جموں و کشمیر کا ڈومیسائل حاصل کرنے کے راستے کھولے۔ اس کے بعد ملازمتوں، رہائش اور سیاسی نمائندگی سے متعلق خدشات نے جنم لیا۔ اسی طرح اراضی سے متعلق پابندیوں میں تبدیلیوں نے اس سوال کو اہم بنادیا کہ متنازع علاقے کے وسائل اور زمینوں پر فیصلہ کرنے کا اختیار کس کے پاس ہونا چاہیے۔
قابض بھارتی حکومت ان تبدیلیوں کو انتظامی یکسانیت، سرمایہ کاری اور ترقی کے نام پر درست قرار دے سکتی ہے لیکن کشمیری عوام کا سوال اس سے کہیں زیادہ بنیادی ہے۔ کیا ترقی کے نام پر کسی متنازع خطے کی سیاسی و آبادیاتی شناخت تبدیل کرنے کا اختیار ایک قابض حکومت کو حاصل ہوجاتا ہے جو وہاں کے عوام کی آزادانہ رضامندی کے بغیر حکمرانی کر رہی ہو؟ کیا نام نہاد ترقی کسی قوم کی شناخت اور بقاء سے زیادہ اہم ہوتی ہے؟ صنعتی سرمایہ کاری کا فائدہ مقامی باشندوں کو روزگار اور خوش حالی کی صورت میں ملے گا یا زمینوں اور معاشی مواقع تک رسائی میں ان کا حصہ محدود ہوجائے گا؟ یہ ایسے سوالات ہیں جن کا جواب محض ترقیاتی منصوبوں کے اعلانات سے نہیں دیا جاسکتا۔
اس ضمن میں ایک اور اہم پہلو انتخابی سیاست کا ہے۔ 2024ء کے بھارتی پارلیمانی انتخابات سے قبل مقبوضہ جموں و کشمیر میں ووٹروں اور انتخابی طریقۂ کار سے متعلق قواعد کی تبدیلی بھی متنازعہ اور زیر بحث ہے۔ اگر آبادی، انتخابی حلقہ بندی، ووٹر فہرستوں اور سیاسی نمائندگی کے قواعد میں تبدیلیاں ایک ہی سمت میں اثرانداز ہوں تو اسکو مقامی آبادی کوحاشیہ پر دھکیلنے اور عددی، تہذیبی، سیاسی اور معاشی طور پر اسکی تطہیر کئے جانے کے سوا کیا کہا جاسکتا ہے؟
مقبوضہ جموں و کشمیر کی متنازع حیثیت اس معاملے کو محض بھارتی داخلی انتظامی مسئلے سے کہیں آگے لے جاتی ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے 21 اپریل 1948ء کو قرارداد 47 منظور کی جبکہ 30 مارچ 1951ء کی قرارداد میں بھی جموں و کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ آزادانہ اور غیر جانب دارانہ رائے شماری کے اصول سے وابستہ کیا گیا۔ سلامتی کونسل کی ان قراردادوں میں ریاست کے مستقبل کے تعین اور عوام کی آزادانہ رائے کو بنیادی اہمیت دی گئی ہے۔
یہی وہ بنیادی اصول ہے جس کے تناظر میں حریت پسند کشمیری بھارتی حکومت کے یک طرفہ اور جابرانہ اقدامات کو مسترد کرتے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ جب تک تنازعے کا منصفانہ حل اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کا تقاضا پورا نہیں ہوتا، اس وقت تک ریاست کے سیاسی مستقبل، آبادیاتی ساخت اور وسائل کے بارے میں کیے جانے والے فیصلے غیر معمولی حساسیت کے حامل رہیں گے۔ بھارت کا یہ اصرار کہ جموں و کشمیر اس کا اٹوٹ انگ ہے، کشمیری عوام کے اس بنیادی سوال کا جواب نہیں ہےکہ انہیں اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق کب اور کیسے ملے گا۔
بی جے پی کی سیاست میں ہندوتوا نظریے کو حاصل مرکزی اہمیت نے کشمیری مسلمانوں کے خدشات کو مزید تقویت دی ہے۔ کشمیر کی مسلم اکثریتی شناخت، اس کی تہذیبی روایات، زبان، زمین اور تاریخی سیاسی تشخص محض آبادیاتی اعدادوشمار کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک ایسی اجتماعی شناخت کے اجزا ہیں جو نسل در نسل منتقل ہوئی ہے۔ کشمیریوں کے نزدیک ان کی شناخت کو کمزور کرنے کی کوئی بھی کوشش ان کے قومی تشخص اور سیاسی حقوق پر حملہ ہے۔
کل جماعتی حریت کانفرنس کا احتجاجی تحریک شروع کرنے کا انتباہ اس گہرے اضطراب کی عکاسی کرتا ہے جو کشمیری عوام میں اپنے سیاسی مستقبل، شناخت اور حقوق کے حوالے سے پایا جاتا ہے۔ عالمی برادری، بالخصوص اقوام متحدہ کے لیے یہ معاملہ محض ایک نئی مردم شماری کے انعقاد تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ اسے اس عمل کے پیچھے چھپے فسطائی عزائم کو بھانپنا ہوگا، مقامی آبادی کے تحفظات کو سننا ہوگا اور یہ دیکھنا ہوگا کہ انتظامی تبدیلیاں متنازع خطے کے سیاسی مستقبل پر کیا اثرات مرتب کرسکتی ہیں؟
بھارتی حکومت کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ طاقت، قانون سازی اور انتظامی احکامات کے ذریعے کسی خطے پر کنٹرول مستحکم کرنا اور وہاں کے عوام کا اعتماد حاصل کرنا دو مختلف امور ہیں۔ اگر کشمیریوں کو یہ محسوس ہوتا رہے کہ ان کی زمین، شناخت اور سیاسی نمائندگی کے بارے میں فیصلے ان کی مرضی کے بغیر کیے جارہے ہیں تو محض انتظامی اقدامات سے پائیدار امن قائم نہیں ہوسکتا۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button