مضامین

تنازعہ کشمیر اور کشمیریوں کی عظیم قربانیاں

تحریر:چوھدری تنزیر اقبال


یہ احساس بہت سے کشمیریوں کے دل کی آواز ہے۔ جب حالات، مشکلات اور روزمرہ مسائل بڑھ جاتے ہیں تو یہ خوف پیدا ہوتا ہے کہ کہیں کشمیر کا مقدمہ پس منظر میں نہ چلا جائے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ کشمیر محض ایک زمینی تنازعہ نہیں، بلکہ لاکھوں انسانوں کی تاریخ، شناخت، قربانیوں اور امیدوں کا نام ہے۔ کشمیر کا تنازعہ آج بھی بین الاقوامی سطح پر زیرِ بحث ہے اور خطے کی سیاست و امن سے جڑا ہوا ہے۔

کشمیر کو بھلا دینا ان شہداء کی قربانیوں، ان ماؤں کے آنسوؤں اور ان خاندانوں کی جدائیوں کو بھلا دینا ہوگا جو دہائیوں سے اس مسئلے کے اثرات برداشت کر رہے ہیں۔ مختلف ادارے اور مبصرین بھی اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ کشمیر کے تنازعے کے انسانی اور نفسیاتی اثرات نسلوں تک محسوس کیے جاتے ہیں۔

کبھی کبھی حالات کو دیکھ کر دل غم سے بھر جاتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دنیا اپنے مفادات میں مصروف ہے، امت اپنی پریشانیوں میں الجھی ہوئی ہے، اور کشمیر کا درد کہیں شورِ زمانہ میں دب نہ جائے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا کشمیر کو واقعی بھلایا جا سکتا ہے؟

کشمیر صرف ایک خطہ نہیں، ایک تاریخ ہے، ایک قربانی ہے، ایک جدوجہد ہے۔ یہ ان شہداء کی امانت ہے جنہوں نے اپنے خون سے آزادی کی شمع روشن رکھی۔ یہ ان ماؤں کی آہوں کا نام ہے جنہوں نے اپنے لختِ جگر قربان کیے، ان بہنوں کے صبر کی داستان ہے جنہوں نے ظلم کے سائے میں زندگی گزاری اور ان بچوں کی امید ہے جو آج بھی بہتر مستقبل کے خواب دیکھتے ہیں۔

وقت گزر سکتا ہے، حالات بدل سکتے ہیں، لیکن قوموں کی یادداشت سے وہ قربانیاں کبھی محو نہیں ہوتیں جو حق اور انصاف کے لیے دی گئی ہوں۔ کشمیر کا نام صرف نقشے پر نہیں، کروڑوں دلوں میں زندہ ہے۔ جب تک انصاف، آزادی اور حقِ خودارادیت کی بات ہوتی رہے گی، کشمیر کا ذکر بھی ہوتا رہے گا۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم مایوسی کے بجائے شعور، اتحاد اور پُرامن آواز کو زندہ رکھیں۔ اپنے شہداء کو یاد رکھیں، اپنی نئی نسل کو تاریخ سے آگاہ کریں اور ہر فورم پر مظلوم کشمیریوں کے حق میں آواز بلند کرتے رہیں۔

کشمیر کو بھلایا نہیں جا سکتا، کیونکہ کشمیر ایک زمین سے بڑھ کر ایک احساس ہے، اور احساسات کبھی مرتے نہیں۔اللہ تعالیٰ اہلِ کشمیر کے حالات آسان فرمائے اور خطے میں امن، انصاف اور عزتِ انسانیت کو فروغ دے۔ آمین۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button