بھارت

بھارت :منی پور میں تشدد کی تازہ لہر، 24گھنٹوں کے دوران9 افراد ہلاک، 14مکانات نذرِ آتش

امپھال : بھارت کی شورش زدہ ریاست منی پور میں جہاں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت ہے، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران تشدد کے مختلف واقعات میں کم از کم 9 افراد ہلاک اور 14 مکانات نذرِ آتش کر دیے گئے، جس کے نتیجے میں کوکی اور ناگا برادریوں کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ریاست کے پہاڑی اضلاع میں تشدد کے واقعات کے بعد ضلع کانگ پوکپی میں ہڑتال کی گئی۔حکام کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں ضلع کامجونگ میں فائرنگ کے تبادلے کے دوران جان سے ہاتھ دھونے والی ایک کوکی خاتون، کامجونگ اور کانگ پوکپی اضلاع میں الگ الگ حملوں کا نشانہ بننے والے ناگا دیہاتی محافظ، اور ضلع اکھرول میں گھات لگا کر کیے گئے حملے میں ہلاک ہونے والا ایک شہری شامل ہے۔مزید کشیدگی کو روکنے کے لئے کامجونگ کی ضلعی انتظامیہ نے چاساد پولیس اسٹیشن کے 400 میٹر کے دائرے میں اجتماعات پر پابندی عائد کر دی ہے۔
دریں اثناءکوکی برادری کی تنظیم کمیٹی آن ٹرائبل یونٹی (کو ٹی یو) نے موجودہ صورتِ حال کے ردعمل میں ضلع کانگ پوکپی میں 24 گھنٹے کی ہڑتال کا اعلان کیا جس کا آغاز ہفتے کی شام 6 بجے ہوا۔اطلاعات کے مطابق تشدد کا تازہ سلسلہ جمعہ کی رات یعنی 9 اکتوبر کو شروع ہوا، جب پانچ بچوں کی ماں42سالہ ڈومخونی توتھانگ چاساد پولیس اسٹیشن کے قریب فائرنگ کے تبادلے کے دوران ہلاک ہو گئی۔
تازہ واقعات نے منی پور میں کوکی اور ناگا برادریوں کے درمیان کشیدگی مزید بڑھا دی ہے جس سے متاثرہ اضلاع میں شہریوں کی سلامتی اور تشدد مزید پھیلنے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔واضح رہے کہ منی پور میں وسیع تر نسلی تنازعہ مئی 2023 میں شروع ہوا تھا جس میں بنیادی طور پر عیسائی اکثریتی کوکی زو اور ہندو اکثریتی میتی برادریاں شامل تھیں۔ بعد ازاں کوکی اور ناگا برادریوں کے درمیان بھی جھڑپیں شروع ہو گئیں۔ طویل عرصے سے جاری اس تشدد کے نتیجے میں 300 سے زائد افراد ہلاک اور ہزاروں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔بی جے پی کی زیر قیادت حکومت کو اس طویل بحران سے نمٹنے کے طریقہ کار اور تشدد کو روکنے میں ناکامی پر اپوزیشن جماعتوں، سول سوسائٹی کے گروپوں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور دیگر متعلقہ حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button