مقبوضہ جموں و کشمیر

آغا مہدی کی نئی دہلی میں کشمیر جیسی پابندیوں کی شدید مذمت

نئی دہلی: غیر قانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں نیشنل کانفرنس کے رہنما اور سرینگر سے بھارتیِ پارلیمنٹ کے رکن آغا روح اللہ مہدی نے نئی دہلی میں احتجاج کو روکنے کے لئے غیر معمولی سکیورٹی انتظامات پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ اختلافِ رائے اور جوابدہی کی آواز کو دبایا جا رہا ہے۔
کاکروچ جنتا پارٹی کی کال پر جنتر منتر پر احتجاج کو روکنے کے لئے دہلی میں پولیس اور پیراملٹری فورسز کی بھاری تعیناتی پر سوال اٹھاتے ہوئے انہوں نے بھارتی حکومت اور بی جے پی کو آڑے ہاتھوں لیا۔انہوں نے کہاکہ نئی دہلی میں عدم اطمینان اور احتساب کی آواز کو جس طرح دبایاجارہا ہے، وہ انتہائی تشویشناک ہے۔ انہوں نے کہاکہ بی جے پی حکومت بھارت کو ایک ایسے راستے پر لے جا رہی ہے جہاں آئینی اداروں پر سوال اٹھانے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ صبح سے جنتر منتر جانے کی کوشش کر رہے تھے، لیکن ہر راستے اور سڑک سے انہیں واپس بھیج دیا گیا۔ آغا مہدی نے کہاکہ راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ اور بھارتیہ جنتا پارٹی ملک میں ایسا نظام چاہتی ہیں جہاں انہیں کوئی چیلنج نہ کر سکے اور وہ اداروں کو اپنے سیاسی مفادات کے لیے استعمال کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ آج کے حالات نے یہ واضح کر دیا ہے کہ اقتدار پر قابض جماعت کیا چاہتی ہے؛ وہ چاہتے ہیں کہ لوگوں میں حکومت کو چیلنج کرنے کی ہمت یا حق ہی نہ بچے۔
انہوں نے کہا کہ جب خود الیکشن کمیشن کے اندر سے ہی یعنی دو کمشنرز کی طرف سے چیف الیکشن کمشنر پر سنگین اعتراضات اٹھائے گئے ہوں، تو یہ کوئی ہوا میں کی گئی بات نہیں ہے، بلکہ اس کے پیچھے پختہ سچائی اور وزن ہے۔ کسی بھی فعال جمہوریت میں اس طرح کی بے ضابطگیوں پر پوچھ گچھ اور جوابدہی کا مطالبہ کرنا ایک فطری عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ گیانیش کمار کو نہ صرف استعفیٰ دینا چاہیے، بلکہ ان کے خلاف قانونی کارروائی بھی ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ووٹ کی چوری سے بڑی کوئی چوری نہیں ہو سکتی۔جب آپ سے آپ کا ووٹ ہی چھین لیا جائے، تو آپ سے شہری ہونے کا بنیادی حق ہی چھین لیا جاتا ہے۔
عمر عبداللہ کے اس بیان کے بارے میں پوچھے جانے پر کہ دہلی کو کشمیر بنایا جا رہا ہے، آغا مہدی نے اس سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ جو کچھ آج دہلی میں دیکھنے کو ملا ہے، اسے اگر سو گنا بڑھا دیا جائے، تو وہ کشمیر کی روزمرہ کی حقیقت بن جاتی ہے۔ کشمیر میں اسی طرح کی فوجی موجودگی، بیریکیڈز، انٹرنیٹ کی بندش اور کمیونیکیشن بلیک آو¿ٹ عام بات ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ دہلی میں رہنماو¿ں کو کچھ گھنٹوں کی حراست کے بعد چھوڑ دیے جانے کی امید ہوتی ہے، جب کہ کشمیر میں ایسی آوازوں کو یو اے پی اے اور پی ایس اے جیسے کالے قوانین کے ذریعے دبایا جاتا ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button