مقبوضہ جموں وکشمیر میں طویل نظربندی کو ہتھیار کے طور پراستعمال کئے جانے پر اقوام متحدہ سے مداخلت کی اپیل
اسلام آباد:کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز (کے آئی آئی آر)کے چیئرمین الطاف حسین وانی نے اقوام متحدہ سے اپیل کی ہے کہ وہ بھارت کی طرف سے مقبوضہ جموں وکشمیر میں طویل نظربندی کو ایک ہتھیار کے طوراستعمال کئے جانے کے معاملے پر مداخلت کرے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق الطاف حسین وانی نے بلاجواز نظربندی سے متعلق اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ کے سربراہ ڈاکٹر میتھیو گلیٹ کے نام ایک خط میں کشمیری نوجوان محمد یاسین بٹ کا معاملہ بطور مثال پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ یاسین بٹ 10جولائی 2023 سے بغیر کسی سزا کے نظربند ہیں۔خط میں الطاف حسین وانی نے یاسین بٹ کی طویل نظربندی اور مقدمے کی سماعت بار بار ملتوی کیے جانے پر تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ ان تاخیروں سے انصاف میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے اور نظربند افراد اور ان کے اہل خانہ کی مشکلات بڑھ رہی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہر بار سماعت ملتوی ہونے سے تکالیف میں اضافہ اور انصاف میں تاخیر ہوتی ہے۔
الطاف وانی نے کہا کہ مسلسل سماعتوں کے باوجود پیش رفت کے بجائے اگلی تاریخیں ہی مل رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارتی حکام مقبوضہ جموں وکشمیر میں مقدمے کی سماعت سے قبل طویل نظربندی کو اجتماعی سزا کے لئے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ایسے اقدامات انسانی حقوق کے بین الاقوامی معیارات کی خلاف ورزی اور منصفانہ اور فوری ٹرائل کے حق کو متاثر کرتے ہیں۔









