نئی دہلی: چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کے مطالبے پر کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج شدت اختیار کر گیا
کاکروچ پورے نئی دہلی میں پھیل گئے، جنتر منتر میں سخت پابندیاں نافذ
نئی دہلی: بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں ووٹر فہرستوں میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں اور ووٹ چوری کے خلاف مودی حکومت کے خلاف نوجوانوں کی تنظیم کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج زور پکڑ گیا ہے۔ نوجوان پورے شہر میں پھیل گئے ہیں، جبکہ جنتر منتر میں سخت پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔
بھارت میں کروڑوں ووٹرز کے نام انتخابی فہرستوں سے خارج کیے جانے کا معاملہ سامنے آنے کے بعد چیف الیکشن کمشنر سے استعفے کے مطالبے پر کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج شدت اختیار کر گیا ہے اور نوجوانوں کی قیادت میں مظاہرین پورے شہر میں پھیل گئے ہیں۔
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھی جیت اور معروف یوٹیوبر کی گرفتاری اور رہائی کے باوجود نوجوان چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کے مطالبے پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ حالات کشیدہ ہونے پر جنتر منتر میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے اور پولیس نے ہزاروں مظاہرین کو گرفتار کر لیا ہے۔
معروف یوٹیوبر دھرو راٹھی، جنہیں پولیس نے گزشتہ شب حراست میں لیا تھا، نے کہا ہے کہ کسی جمہوری ملک میں ایسا نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا، ’’مودی اتنا نہ دبائیں کہ سارا ڈر ہی ختم ہو جائے۔‘‘
دوسری جانب، پولیس کی جانب سے بے دریغ لاٹھی چارج کے باعث مظاہرین مشتعل ہو گئے ہیں اور پورا دہلی شہر مفلوج ہو گیا ہے۔ میٹرو اسٹیشن بند، انٹرنیٹ معطل اور شہری گھروں میں محصور ہو گئے ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی الیکشن کمیشن نے انتخابی عمل میں بی جے پی کا ساتھ دیا، اس لیے چیف الیکشن کمشنر کو عہدہ چھوڑنا ہوگا اور الیکشن کمیشن میں اصلاحات کرنا ہوں گی۔
راہل گاندھی سمیت اپوزیشن رہنما پہلے ہی اس احتجاج کی حمایت کر رہے ہیں۔ وہ نہ صرف خود احتجاج میں شریک ہو رہے ہیں بلکہ انہوں نے سول سوسائٹی سے بھی مظاہروں میں شرکت کی اپیل کی ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق، جنتر منتر سمیت پورے شہر میں 30 ہزار پولیس اہلکار اور نیم فوجی اہلکار تعینات ہیں۔ پولیس طلبہ، کسانوں اور دلت تنظیموں کے ارکان سمیت تقریباً 10 ہزار افراد کو حراست میں لے چکی ہے۔






