مقبوضہ جموں و کشمیر

مقبوضہ کشمیر میں عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں شدت

جموں:غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں بڑھتے ہوئے شہری، معاشی اور لسانی مسائل پر احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں۔ تاجروں، کارکنوں، کسانوں اور سکھ برادری نے اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے قابض حکام پر دبائو بڑھا دیاہے۔
جموں میں مشن اسٹیٹ ہڈ جموں و کشمیر کے صدر سنیل ڈمپل کی قیادت میں امپھلاہ-جانی پور فلائی اوور منصوبے کے خلاف احتجاج کیا گیا۔ تاجروں، دکانداروں اور مقامی رہائشیوں نے منصوبے پر فوری کام روکنے کا مطالبہ کیا۔
سنیل ڈمپل نے کہا کہ مجوزہ فلائی اوور سے کاروبار اور رہائشی املاک متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے اس کے بجائے رنگ روڈ، بہتر منصوبہ بندی اور امپھلاہ منڈا سے اکھنور تک میٹرو رابطے کا مطالبہ کیا۔ ان کے مطابق،اس منصوبے سے تقریبا پانچ ہزار تجارتی مراکز اور پانچ لاکھ افراد کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مطالبات نظرانداز کیے گئے تو احتجاج میں شدت لائی جائے گی۔
راجوری میں آنگن واڑی کارکنوں اور معاونین نے ماہانہ اعزازیے میں اضافے کے لیے مظاہرہ کیا۔ صدر ستویندر کماری کی قیادت میں مظاہرین چلڈرن پارک سے ڈپٹی کمشنر دفتر کی جانب روانہ ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین اور بچوں کے لیے اہم خدمات انجام دینے کے باوجود انہیں ماہانہ صرف پانچ ہزار روپے ملتے ہیں۔ کارکنوں نے اعزازیہ نہ بڑھانے پر کام روکنے کی دھمکی دی۔
ضلع کٹھوعہ میں شدید بارشوں اور طوفانی ہوائوں سے باسمتی چاول کی فصل کو نقصان پہنچنے پر کسانوں نے احتجاج کیا۔ گوپالا چک اور سرحدی دیہات کے کسانوں نے فصلوں میں پانی کھڑا ہونے سے بھاری نقصان کی شکایت کی۔ کسان اشوک کمار نے کہا کہ قابض حکام نے ابھی تک نقصانات کا جائزہ نہیں لیاہے۔ انہوں نے قرضوں اور فصلوں کی انشورنس کی ادائیگیوں پر بھی تشویش ظاہر کی۔ کسانوں نے بروقت امداد نہ ملنے پر احتجاجی دھرنا دینے کا انتباہ دیا۔
دریں اثنا، جموں میں آل جموں و کشمیر سکھ سنگت کا غیر معینہ مدت کا دھرنا بھی جاری ہے۔ میران صاحب، مریالہ اور کیمپ گولے گجرال سے ریلیاں احتجاجی مقام کی جانب روانہ ہوئیں۔ مختلف سکھ اور مذہبی تنظیموں نے پنجابی کو سرکاری زبان کا درجہ دینے کا مطالبہ کیا۔ امرتسر کی اکال انڈیا پنگلواڑا چیریٹیبل سوسائٹی نے بھی پنجابی کو نظرانداز کیے جانے پر سوال اٹھایا۔گوردوارہ رانی تالاب، ڈیگھیانہ کے چیئرمین ترنجیت سنگھ ٹونی نے بھی احتجاج کی حمایت کی۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button