بنگلورو: ووٹر فہرستوں کی نظرثانی کیخلاف احتجاج
ایمنسٹی انڈیا کے سربراہ سمیت 100 مظاہرین گرفتار
بنگلورو:بھارت میں ووٹر فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں شدت آگئی ہے۔ بنگلورو میں پولیس نے ایمنسٹی انڈیا کے سربراہ آکار پٹیل سمیت تقریبا 100 مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مظاہرین کرناٹک کے چیف الیکشن افسر کے دفتر کے باہر جمع ہوئے تھے۔ وہ انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے خلاف مارچ کرنا چاہتے تھے، تاہم پولیس نے انہیں روک کر طلبہ، وکلا، کارکنوں اور اساتذہ سمیت متعدد افراد کو حراست میں لے لیا۔
خواتین مظاہرین نے الزام لگایا کہ گرفتاریوں کے دوران پولیس اہلکاروں نے ان کے ساتھ بدسلوکی کی۔ پولیس کارروائی کی کوریج کرنے والے صحافیوں سے بھی مبینہ طور پر بدسلوکی کی گئی۔
مظاہرین نے انتخابی فہرستوں کی نظرثانی منسوخ کرنے اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفے کا مطالبہ کیا۔ اپوزیشن جماعتوں اور کارکنوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس عمل سے بڑی تعداد میں اہل ووٹرز کے نام غلط طور پر فہرستوں سے خارج ہو سکتے ہیں۔
بنگلورو کا احتجاج بھارت کے دیگر شہروں میں انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے خلاف جاری مظاہروں کے دوران سامنے آیا ہے۔ مظاہرین نے شفافیت، اہل ووٹرز کے تحفظ اور پولیس کارروائیوں کی جوابدہی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا نے بھی انتخابی فہرستوں سے متعلق احتجاج پر پابندیوں اور گرفتاریوں پر تنقید کرتے ہوئے حکومت پرپرامن اجتماع کے حق کے احترام پر زور دیا ہے۔






