مقبوضہ جموں و کشمیر

مقبوضہ کشمیر میں سات برس کے دوران ناانصافیوں اور مظالم میں اضافہ ہوا ہے ، رپورٹ

سیاسی محرومی، آبادی کے تناسب میں تبدیلی اور معاشی بدحالی سے کشمیریوں کی شناخت کو خطرات لاحق ہیں

اسلام آباد:ایک تازہ رپورٹ میں غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بنیادی حقوق اور شناخت کے حوالے سے بڑھتے ہوئے خدشات کو اجاگر کیا گیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق گزشتہ سات برس کے دوران مقبوضہ علاقے میں ناانصافیوں اور مظالم میں اضافہ ہوا ہے۔ سیاسی محرومی، آبادی کے تناسب میں تبدیلیوں کے خدشات اور معاشی بدحالی نے صورتحال مزید سنگین بنادی ہے۔
رپورٹ میں اگست 2019 میں نئی دہلی کی جانب سے مقبوضہ علاقے کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس میں اختلاف رائے پر پابندیوں، معاشی مشکلات اور کشمیریوں کی منفرد شناخت کے متاثر ہونے کے خدشات بھی اجاگر کیے گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اگست2019کے فیصلے نے مقبوضہ علاقے کے سیاسی اور آئینی منظرنامے کوتبدل کردیا۔ جموں و کشمیر کو دو یونین ٹیریٹریز جموں و کشمیر اور لداخ، میں تقسیم کردیا گیا۔ بعد میں پالیسیوں کے ذریعے کشمیریوں کی سیاسی نمائندگی کمزور اور منفرد ثقافتی و مذہبی شناخت پر دبائو بڑھا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ علاقے میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں، گھروں پر چھاپوں اور اظہارِ رائے پر پابندیوں سے روزمرہ زندگی متاثر ہورہی ہے۔رپورٹ میں صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے خلاف کارروائیوں پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق3,500سے زائد سیاسی قیدی بدستور زیر حراست ہیں۔ ان میں سیاسی رہنما، نوجوان، خواتین اور کارکن شامل ہیں۔ متعدد افراد جیلوں، تفتیشی مراکز اور دیگر حراستی مقامات پر رکھے گئے ہیں۔
رپورٹ میں پبلک سیفٹی ایکٹ اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قوانین کے بے دریغ استعمال پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ ان قوانین کے ذریعے سیاسی سرگرمیوں پر قدغن عائد ہے۔ طویل حراست اور قانونی تحفظات کی کمی پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، حلقہ بندیوں نے مقبوضہ علاقے کے سیاسی منظرنامے کو تبدیل کردیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس عمل سے مسلم اکثریتی وادی کشمیر کی سیاسی نمائندگی متاثر ہوئی ہے۔
وزیر اعلی عمر عبداللہ حلقہ بندیوں کے عمل پر تنقید کرچکے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ اس سے بھارتیہ جنتا پارٹی کو فائدہ پہنچاہے۔ رپورٹ کے مطابق اسمبلی کی سات اضافی نشستوں میں سے چھ بی جے پی نے جیتیں۔ عمرعبداللہ نے الیکشن کمیشن کی جانب داری پر بھی سوال اٹھائے ہیں۔
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے بھی حلقہ بندیوں پر تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس عمل سے بی جے پی کو فائدہ پہنچا یاگیااور وادی کشمیر کا سیاسی اثر کمزور ہوا۔ انہوں نے فرقہ وارانہ اور علاقائی تقسیم کے خطرات سے بھی خبردار کیا۔رپورٹ کے مطابق جموں کے لیے چھ اضافی نشستیں مختص ہوئیں جبکہ وادی کشمیر کو صرف ایک نشست ملی۔ رپورٹ نے 2019کی آئینی تبدیلیوں کو آبادیاتی تبدیلیوں کے خدشات سے جوڑا ہے۔ رپورٹ کے مطابق نظرثانی شدہ ڈومیسائل قوانین علاقے کی آبادی کے تناسب جو بگاڑ سکتے ہیں۔ رپورٹ نے ان اقدامات کو نوآبادیاتی طرز کی پالیسی قرار دیاہے ۔
رپورٹ میں وادی کشمیر کی مسلم اکثریتی شناخت کے تحفظ پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ قانون سازی اور انتظامی تبدیلیوں سے مقامی تحفظات کمزور ہوئے ہیں۔ یہ خدشات تنازع ہکشمیر کے اہم پہلوئوں میں شامل ہیں۔ مقبوضہ علاقے کی حتمی حیثیت بین الاقوامی سطح پر حل طلب ہے۔ اقوام متحدہ کی قراردادیں تنازعہ کے پرامن حل پر زور دیتی ہیں۔ ان میں مطالبہ کیا گیا کہ کشمیریوں کو اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دیا جائے۔
رپورٹ میں تعلیم یافتہ کشمیری نوجوانوں کی بے روزگاری کو بھی اہم مسئلہ قرار دیا گیا ہے۔ مقبوضہ علاقے میں تین لاکھ ستر ہزار سے زائد تعلیم یافتہ نوجوان بے روزگار کاشکار ہیں،جوکہ انتہائی باعث تشویش ہے ۔
رپورٹ میں اسمبلی کے سرکاری اعدادوشمار کے حوالے سے بے روزگاری کی شرح 6.7فیصد بتائی گئی ہے۔ لیبر فورس سروے کے ایک دوسرے تخمینے میں یہ شرح 6.1فیصد ہے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیاہے کہ یہ اعدادوشمار مختلف ذرائع اور ادوار سے متعلق ہیں۔ ان میں کشمیری نوجوانوں کی بے روزگاری کی شرح 17.4 فیصد بھی بتائی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق شہری علاقوں میں بے روزگاری کی شرح 10.6فیصد جبکہ دیہی علاقوں میں 5.1فیصد ہے۔ مالی سال 2025-26کے دوران 960سرکاری آسامیوں کے لیے 94ہزار546درخواستیں موصول ہوئیں۔ اس طرح ہر آسامی کے لیے تقریبا 99امیدواروں نے درخواست دی ۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ اعدادوشمار معاشی ترقی کے سرکاری دعوئوں پر سوال اٹھاتے ہیں۔ نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنا ایک اہم چیلنج ہے۔ محدود مواقع سے مالی عدم تحفظ اور سماجی بے چینی میں اضافہ ہوسکتا ہے ۔
رپورٹ کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر کی معیشت کو مجموعی طور پر 1ہزار789 ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔ اس میں سے تقریبا 46 ارب روپے کے نقصانات زراعت اور اس سے منسلک شعبوں کو ہوئے ہیں۔باغبانی اور پھلوں کی پیداوار مقامی معیشت کے اہم ستون ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس شعبہ 60سے 70فیصد آبادی منسلک ہے ۔
کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے اگست 2019 کے بعد ابتدائی چار ماہ کے دوران 2.4ارب ڈالر کے نقصانات کا تخمینہ لگایا تھا۔ رپورٹ کے مطابق اگست 2020 تک مجموعی نقصانات پانچ ارب ڈالر سے تجاوز کرگئے تھے۔ مختلف شعبوں میں تقریبا 4لاکھ96ہزار ملازمتیں ختم ہونے کا تخمینہ بھی پیش کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں دستکاریوں اور قالین بافی کے شعبے کو 25 ارب روپے سے زائد کے نقصانات کا ذکر کیا گیا ہے۔ سیب کی تجارت بھی شدید متاثر ہوئی۔ گڈز اینڈ سروسز ٹیکس (جی ایس ٹی) کی آمدنی میں مبینہ طور پر 30.5فیصد کمی آئی ہے۔ رپورٹ نے ان نقصانات کو پابندیوں اور معاشی سرگرمیوں میں خلل سے منسوب کیا ہے۔
رپورٹ میں کالے قانون یو اے پی اے کے تحت جائیدادوں کی ضبطی پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ ان اقدامات سے متاثرہ کشمیری خاندانوں میں بے چینی پیدا ہوئی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے جائیدادوں کی ضبطی کو اختلافِ رائے دبانے کا ممکنہ ہتھکنڈہ قراردیتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
رپورٹ میں مقبوضہ علاقے کی نئی میڈیا پالیسی پر بھی تنقید کی گئی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ پالیسی آزادی صحافت اور مقامی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے لیے مشکلات پیدا کرسکتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پابندیوں سے قابض حکام کی کارکردگی پر آزادانہ نظر رکھنے کا عمل متاثر ہوگا۔
مجوزہ نئی میڈیا پالیسی 2026نے ان خدشات میں مزید اضافہ کیا ہے۔ ناقدین کے مطابق اس پر عمل درآمد مقامی خبر رساں اداروں پر دبائو بڑھا سکتا ہے۔ رپورٹ میں صحافتی آزادی اور آزادانہ رپورٹنگ کے تحفظ پر زور دیا گیا ہے۔
رپورٹ نے عالمی حکومتوں پر زور دیا گیاہے کہ وہ بھارت سے مبینہ خلاف ورزیوں پر جواب دہی یقینی بنانے کا مطالبہ کریں اور سیاسی حقوق، شہری آزادیوں، معاشی مشکلات اور ثقافتی شناخت کے تحفظ پر توجہ دینے کی اپیل کی گئی ہے۔
اگست 2019 کے غیر قانونی اقدامات کے سات برس بعد بھی تنازع کشمیر حل طلب ہے۔ سیاسی نمائندگی، شہری آزادیوں اور آبادیاتی پالیسیوں پر اختلافات برقرار ہیں۔ معاشی دبائو نے بھی مقامی آبادی کے خدشات میں اضافہ کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق تنازعہ کے دیرپا حل کے لیے کشمیریوں کے حقوق کا احترام ضروری ہے۔رپورٹ میں اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق تنازعہ کشمیر کے پرامن حل اور عالمی برادری کی بامعنی سفارتی کوششوں پر زور دیا گیاہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button