بھارت: مسلح فورسز کی بھاری تعیناتی کے بعد نئی دہلی فوجی چھاونی کا منظر پیش کررہی ہے
مودی کے دور میں مقبوضہ جموں وکشمیرجیسے جابرانہ ہتھکنڈے بھارتی دارالحکومت تک پہنچ گئے
نئی دہلی:بھارتی دارالحکومت نئی دہلی فوجی چھائونی کا منظر پیش کر رہی ہے جہاں مودی حکومت نے احتجاجی مظاہروں کو دبانے کے لیے سینٹرل آرمڈ پولیس فورس (سی اے پی ایف)کی تعیناتی 20اکتوبر تک بڑھا دی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی وزارت داخلہ نے منگل کو صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ کیا۔ ووٹ چوری کے خلاف احتجاج اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو ہٹانے کے مطالبات پر مظاہرے جاری ہیں۔ احتجاجی مظاہروں کے جلد ختم ہونے کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔
اس وقت دہلی میں سی اے پی ایف کی 301کمپنیاں تعینات ہیں۔ دہلی پولیس نے ان میں سے 273کمپنیوں کی تعیناتی 20اکتوبر تک بڑھانے کی درخواست کی ہے۔ابتدائی طور پر مبینہ ووٹ چوری کے خلاف کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج کے پیش نظر 221کمپنیاں تعینات کی گئی تھیں۔ ان میں تقریبا 23ہزار اہلکار شامل تھے اور تعیناتی 12 اکتوبر تک کی گئی تھی۔ بعدازاں فورسز کمپنیوں کی تعداد بڑھا کر 301کر دی گئی۔
سکیورٹی حکام نے اعتراف کیا ہے کہ کناٹ پیلس اور نئی دہلی کے میونسپل علاقے جیسے اہم مقامات پر طویل عرصے تک پابندیاں برقرار رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔سپریم کورٹ نے حکومت کو ان علاقوں تک عوام کی رسائی یقینی بنانے کی ہدایت دی تھی۔ ان علاقوں میں سرکاری دفاتر، کاروباری مراکز اور مالیاتی ادارے واقع ہیں۔ اس کے بعد 11اکتوبر تک نافذ ناکہ بندیوں میں نرمی کر دی گئی۔
دہلی پولیس نے 12 اکتوبر کو وزارت داخلہ کو خط لکھاجس میں کہا گیا کہ پارلیمنٹ ہائوس، الیکشن کمیشن کے مرکزی دفتر اور دیگر اہم تنصیبات کے آس پاس احتجاج میں بھیم آرمی اور طلبا یونینوں سمیت مزید سیاسی جماعتیں شریک ہو سکتی ہیں۔ دارالحکومت میں پیراملٹری فورسز کی بھاری تعیناتی، رکاوٹوں اور پابندیوں نے نام نہاد دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا اصل چہرہ بے نقاب کر دیا ہے۔ یہاں فوجی طاقت کے ذریعے اختلافی آوازوں کو دبایا جا رہا ہے۔اپوزیشن نے مودی حکومت پر نئی دہلی کو ایک فوجی قلعے میں تبدیل کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ دارالحکومت میں اختیار کی جانے والی پالیسی مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری جابرانہ طرزِ عمل کی عکاسی کرتی ہے۔








