بھارت میں 72سالہ صحافی سمیت دو مسلمان پولیس حراست میں جاں بحق ، اہل خانہ کا شفاف تحقیقات کا مطالبہ
لکھنو/پٹنہ: بی جے پی کے زیر اقتداربھارتی ریاستوں اتر پردیش اور بہار میں ایک 72سالہ مسلمان صحافی و سماجی کارکن اور 25سالہ مسلمان نوجوان پولیس کی حراست میں جاں بحق ہو گئے ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق 72سالہ صحافی اور سماجی کارکن پرویز پرواز گورکھپورکی ڈسٹرکٹ جیل میں انتقال کر گئے۔ انہوں نے 2007میں بی جے پی رہنما اور موجودہ وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کی ایک تقریر کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ وہ ایک ایسے مقدمے میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے تھے جسے من گھڑت قرار دیا گیا ہے۔پرویز پرواز نے آدتیہ ناتھ کی نفرت انگیز تقریر بے نقاب کی تھی ۔پرویز اس وقت توجہ کا مرکز بنے جب انہوں نے 27جنوری 2007کو ایک عوامی اجتماع میں آدتیہ ناتھ کی اشتعال انگیز تقریر ریکارڈ کی۔ اس وقت آدتیہ ناتھ گورکھپور سے بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن پارلیمنٹ تھے۔ محرم کے جلوس کے دوران جھڑپ کے بعد شہر میں کشیدگی پھیل گئی تھی۔ اس واقعے میں ایک ہندو نوجوان زخمی ہوا تھا جو بعد میں دم توڑ گیا۔پرویز نے اپنے کیمرے سے یہ تقریر ریکارڈ کی۔
بعد ازاں انہوں نے عدالت سے رجوع کیا اور شہر میں پھوٹنے والے تشدد کو ہوا دینے میں آدتیہ ناتھ کے کردار کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔تقریر میں ہندو نوجوان کی موت کے ذمہ دار سمجھے جانے والوں کے خلاف جوابی تشدد کی باتیں شامل تھیں۔ فسادات سے متعلق رپورٹس کے مطابق اس کے بعد ہونے والے تشدد میں کم از کم دو افراد ہلاک ہوئے اور املاک کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا۔آدتیہ ناتھ سے منسوب بیان میں کہا گیا تھاکہ آنے والے وقت میں ایک ہندو کے خون کے بدلے ہم انتظامیہ کے خلاف صرف ایف آئی آر درج نہیں کرائیں گے بلکہ ایسے کم از کم 10لوگوں کو قتل کرائیں گے۔ اس موقع پر مجمعے نے تالیاں بجائیں۔
بی جے پی کے زیر اقتدارایک اور ریاست بہار میں 25سالہ مسلمان نوجوان دلشاد انصاری ضلع چمپارن میں پولیس حراست کے دوران جاں بحق ہو گیا۔دلشاد کے اہل خانہ نے اس کی موت کی اعلی سطحی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کی اہلیہ نگمہ خاتون نے صحافیوںکو بتایا کہ پیر کے روز پولیس کی ایک ٹیم ان کے گھر آئی اور دلشاد کو حراست میں لیا۔انہوں نے کہا کہ پولیس اہلکاروں نے اہل خانہ کو یقین دلایا تھا کہ پوچھ گچھ کے بعد اسے اگلی صبح رہا کر دیا جائے گا۔
تاہم بعد میں اہل خانہ کو بانوچھپر پولیس اسٹیشن سے فون آیااور انہیں بیتیا کے گورنمنٹ میڈیکل کالج و ہسپتال پہنچنے کے لیے کہا گیا۔ انہیں بتایا گیا کہ دلشاد کی طبیعت خراب ہو گئی ہے۔نگمہ خاتون نے بتایا جب ہم ہسپتال پہنچے تو وہ مرچکا تھا۔اہل خانہ نے کہا کہ دلشاد کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا اور اس کی موت سر پر چوٹ لگنے سے ہوئی۔ اس کے والد اختر انصاری نے کہا کہ پولیس اہلکاروں نے ان کے بیٹے کے سر پر زور سے وار کیا، جس سے اسے شدید چوٹ آئی۔ انہوں نے واقعے کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
رپورٹس کے مطابق 25 سالہ مسلمان نوجوان کی پولیس حراست میں موت کے بعد دو سب انسپکٹروں سمیت چھ پولیس اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا ہے۔اس واقعے پر سوشل میڈیا پر بھی ردعمل سامنے آیا ہے۔ متعدد صارفین نے جواب دہی، منصفانہ تحقیقات اور دلشاد انصاری کے اہل خانہ کے لیے انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔









