بھارت

بھارتی پنجاب میں ووٹ چوری اور اداروں پر قبضے کا مودی حکومت کا منصوبہ بے نقاب

نئی دہلی: بھارتی پنجاب میں مودی حکومت کی جانب سے اداروں پر قبضے، ووٹوں میں ردوبدل اور تحقیقاتی اداروں کے ذریعے خوف ودہشت پھیلانے کی حکمت عملی ایک بار پھر بے نقاب ہو گئی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق پنجاب کے وزیر خزانہ ہربھجن سنگھ چیمہ نے 24ستمبر 2026کو چندی گڑھ میں بی جے پی کی زیر قیادت بھارتی حکومت کی انتخابی حکمت عملی پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہاکہ اپوزیشن کی حکومت والی ریاستوں میں انتخابات قریب آتے ہی مرکزی تحقیقاتی اداروں کو مربوط انداز میں کارروائیوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے ۔ ہربھجن سنگھ نے کہا کہ انتخابات قریب آتے ہی انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے عام آدمی پارٹی کے رہنماوں اور وزرا ء کے رشتہ داروں سے منسلک جگہوں پر چھاپے مارنے شروع کر دیے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پہلے الیکشن کمیشن کو اپوزیشن کے ووٹ فہرستوں سے خارج کرنے کی ہدایت دی جاتی ہے۔ اس کے بعد تحقیقاتی اداروںسی بی آئی، ای ڈی اور محکمہ انکم ٹیکس عام شہریوں کو ہراساں کرنے، خوف کی فضا پیدا کرنے اور ووٹروں کو دباو میں لانے کے لیے پہنچ جاتے ہیں۔
ہربھجن سنگھ چیمہ نے ای ڈی پر ڈاکووں کی طرح کام کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ ادارہ بند عمارتوں کے تالے بھی توڑ دیتا ہے۔ انہوں نے کابینہ وزیر ہردیو سنگھ منڈیا کے ایک رشتہ دار سے متعلق تلاشی کی سرکاری دستاویز بھی دکھائی جس میں درج تھا کہ کوئی قابلِ اعتراض مواد برآمد نہیں ہوا۔چیمہ نے کہا کہ عوام اب دیکھ رہے ہیں کہ بی جے پی کو اقتدار میں لانے کے لیے ووٹ کیسے فہرستوں سے خارج اور چوری کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کو عوامی ردعمل سے خوفزدہ قرار دیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن، سی بی آئی، ای ڈی اور محکمہ انکم ٹیکس کو تیزی سے آزاد اداروں کے بجائے بی جے پی کی انتخابی مشینری کے توسیعی تنظیموںکے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ان کے مطابق اپوزیشن کی حکومت والی ریاستوں کو منظم انداز میںنشانہ بنایا جاتا ہے۔ اس کے برعکس بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں کو ایسی جانچ پڑتال کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ناقدین کے مطابق پہلے ووٹ خارج کئے جاتے ہیں، پھر خوف پیدا کیاجاتا ہے اور آخر میں فتح کا دعوی کیاجاتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق2014کے بعد سیاست دانوں کے خلاف ای ڈی کے مقدمات کی تعداد گزشتہ دہائی کے مقابلے میں چار گنا بڑھ گئی ہے۔2014سے 2022کے دوران زیر تفتیش 121نمایاں سیاست دانوں میں سے 95فیصد یعنی 115 افراد اپوزیشن جماعتوں سے تعلق رکھتے ہیں۔2025 کے اوائل سے پہلے کی دہائی میں ای ڈی نے ارکان پارلیمنٹ، ارکان اسمبلی، قانون ساز کونسل کے ارکان اور دیگر سیاسی شخصیات کے خلاف 193مقدمات درج کیے اور صرف دو سزائیں ہوئیں۔ اعداد و شمار کے مطابق اسی عرصے کے چھاپوں کی تعداد بھی گزشتہ دہائی کے تقریبا 112سے بڑھ کر بعد کے برسوں میں 3,000سے زیادہ ہو گئی۔ اس دوران ہزاروں کروڑ روپے مالیت کے اثاثے بھی منسلک کیے گئے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کے زیر اقتدار ریاستوں میں اسمبلی انتخابات سے قبل چھاپوں میں شدت آ جاتی ہے۔ ان کے مطابق یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ تحقیقاتی اختیارات غیر جانب دار انصاف کے بجائے سیاسی دباو ڈالنے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button