گریز: حاملہ خاتون اور بچے کی ہلاکت پر ہڑتال، احتجاج
سرینگر: بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ کے قصبے گریز میں حاملہ خاتون اور اس کے بچے کی ہلاکت پر مکمل ہڑتال کی گئی جبکہ لوگوں نے زبردست احتجاج کرتے ہوئے ان اموات کا ذمہ دار انتظامی غفلت کو قرار دیا۔گریز کے مرکزی قصبے داور میں بازار بند رہے جبکہ رہائشیوں نے سڑکیں بلاک کیں، دکانیں بند رکھیں اور ہلاکتوں کے خلاف دھرنا دیا۔ مظاہرین نے مقامی انتظامیہ، بالخصوص سب ڈویژنل مجسٹریٹ گریز کے خلاف نعرے بازی کی اور کہا کہ نقل و حرکت پر عائد پابندیوں کے باعث خاتون کو ہسپتال منتقل کرنے میں تاخیر ہوئی۔
حسینہ بیگم نامی خاتون کا تعلق تلائل کے گاؤں مزگنڈ سے تھا۔ حمل کے دوران انہیں طبی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ بچہ مردہ پیدا ہوا جبکہ سب ڈسٹرکٹ ہسپتال داور سے ڈسٹرکٹ ہسپتال بانڈی پورہ منتقل کیے جانے کے دوران وہ خود بھی انتقال کر گئیں۔
اطلاعات کے مطابق خاتون کو منگل کی دیر شام شیخ پورہ کے پرائمری ہیلتھ سینٹر لے جایا گیا تھا، لیکن وہاں کوئی طبی عملہ موجود نہیں تھا۔ بعد ازاں انہیں سب ڈسٹرکٹ ہسپتال داور لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے مزید علاج کے لیے انہیں بانڈی پورہ منتقل کرنے کا مشورہ دیا۔
بلاک میڈیکل آفیسر گریز، ڈاکٹر فیروز اقبال نے کہا کہ طبی حکام نے انتظامیہ سے بروقت رابطہ کیا تھا، لیکن مریضہ کو فوری طور پر بانڈی پورہ منتقل کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
دریں اثنا، احتجاج میں شامل خاتون کے لواحقین نے ان کی موت کا ذمہ دار انتظامی غفلت کو قرار دیا۔ انہوں نے استفسار کیا کہ پرائمری ہیلتھ سینٹر میں موجود بلڈ بینک کی سہولت سے کیوں فائدہ نہیں اٹھایا گیا۔ خاندان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جب حسینہ بیگم کو طبی امداد کی ضرورت تھی تو سینٹر میں کوئی ڈاکٹر موجود نہیں تھا۔ انہوں نے متعلقہ عملے کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔
بھارتی حکومت دعویٰ کرتی ہے کہ اگست 2019 میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کے بعد علاقے میں بے مثال ترقی ہوئی ہے، لیکن گریز میں پیش آنے والا یہ واقعہ اور اس نوعیت کے دیگر واقعات ان دعوؤں پر سوالات اٹھاتے ہیں۔




