بھارت

کینیڈا :”ایس ایف جے ” نے 18 اکتوبر کو ایڈمنٹن میں خالصتان ریفرنڈم کے انعقاد کا اعلان کر دیا

نئی دلی: سکھ فار جسٹس ((ایس ایف جے )نے کینیڈا کے صوبے البرٹا کے شہر ایڈمنٹن میں 18 اکتوبر کو خالصتان ریفرنڈم منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت اور کینیڈا اپنے دوطرفہ تعلقات کو دوبارہ استوار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور کینیڈین وزیر اعظم کی جانب سے اپنی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید گہرا کرنے کی کوششوں کے درمیان اس ریفرنڈم کے اعلان نے خاصی توجہ حاصل کر لی ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان مجوزہ تعاون میں تجارت، توانائی، ٹیکنالوجی، سیکیورٹی اور عوام کے درمیان روابط جیسے معاملات شامل ہیں۔ کینیڈا نے تین دہائیوں سے زائد عرصے میں اپنا سب سے بڑا تجارتی وفد بھارت بھیجا ہے۔کینیڈا کے 300 سے زائد کاروباری نمائندے 12 سے 17 اکتوبر تک بھارت کے دورے پر ہیں۔ کینیڈا کے وزیر برائے بین الاقوامی تجارت، منیندر سدھو،اس وفد کی قیادت کر رہے ہیں۔چونکہ کینیڈا 2030 تک بھارت کے ساتھ دوطرفہ تجارت کو دوگنا کرنے کا خواہاں ہے، اس لیے یہ ریفرنڈم اس پیش رفت کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
مذاکرات کا پانچواں دور اس ماہ کے اوائل میں اوٹاوا میں شروع ہوا تھا۔ توانائی، اہم معدنیات اور ایرو اسپیس فضائی و خلائی ٹیکنالوجی تعاون کے کلیدی شعبوں کے طور پر سامنے آئے ہیں۔دیگر ترجیحی شعبوں میں صاف توانائی، ٹیکنالوجی، لائف سائنسز، زراعت اور جنگلات شامل ہیں۔ یہ مذاکرات منیندر سدھو اور بھارتی وزیر تجارت پیوش گوئل کے درمیان ہونے والی بات چیت کے بعد ہو رہے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ سکھ برادری کی جانب سے ریفرنڈم کا یہ اعلان بھارتی حکومت کو مشتعل کر سکتا ہے، جس کے نتیجے میں دونوں حکومتوں کے درمیان تعلقات دوبارہ خراب ہو سکتے ہیں۔جون 2023 میںخالصتان نواز سکھ رہنما ہردیپ نِجر کے کینیڈا میں قتل کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات میں سخت کشیدگی آئی تھی۔ اس وقت کے کینیڈین وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے اس قتل میں بھارت کے ملوث ہونے کا الزام لگایا تھا۔
گرپتونت سنگھ پنوں کی قیادت میں سکھس فار جسٹس (ایس ایف جے ) اس سے قبل بھی کینیڈا، امریکہ ، برطانیہ وغیرہ میں اسی طرح کے ریفرنڈم منعقد کر چکی ہے۔ یہ تنظیم بھارت میں خالصتان کے نام سے سکھوں کے لیے ایک آزاد وطن کے قیام کی حامی ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button