آزادجموں و کشمیر پونچھ میں بارودی سرنگ کے دھماکے میں چار شہریوں کی ہلاکت
الطاف حسین وانی کااقوام متحدہ سے واقعے کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ
اسلام آباد : کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز (کے آئی آئی آر)کے چیئرمین الطاف حسین وانی نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ 12 اکتوبر کو آزاد جموں و کشمیر کے علاقے مدارپور میں کنٹرول لائن کے قریب بھارتی فوج کی جانب سے نصب کردہ بارودی کے پھٹ جانے کے نتیجے میں چار شہریوں کی ہلاکت کی تحقیقات کرے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق الطاف وانی نے قوام متحدہ کے ماورائے عدالت اور بلا جواز ہلاکتوں سے متعلق خصوصی نمائندے مورس ٹیڈبال بنز، پانی اور نکاسی آب سے متعلق خصوصی نمائندے اور انسانی حقوق و ماحولیات سے متعلق خصوصی نمائندے کے نام ایک مشترکہ مراسلے میں واقعے کی آزادانہ تحقیقات اور ایل او سی کے ساتھ رہنے والے بے گناہ شہریوں کے تحفظ کے لیے اقدامات کا مطالبہ کیا۔
یاد رہے کہ ایک ہی خاندان سے تعلق رکھنے والے چار نوجوان، سردار فیضان صغیر، سردار اشتیاق، سردار عاصم رفیق اور سردار وقاص شریف، اس وقت جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جب بھارتی افواج کی جانب سے نصب کردہ ایک دھماکا خیز آلہ اس وقت پھٹ گیا جب وہ تحصیل ہجیرہ، ضلع راولاکوٹ کے گاں مدارپور میں اپنے گھروں تک پینے کا پانی پہنچانے والی پائپ لائن کی مرمت کر رہے تھے۔ یہ پائپ لائن قریبی پہاڑی چشمے سے پانی لاتی تھی۔ انہوںنے اہل خانہ کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مقتولین پانی کی فراہمی جیسے بنیادی شہری کام میں مصروف تھے۔
انہوں نے کہا کہ بھارتی فورسز، اداروں اور میڈیانے ان بے گناہ شہریوں کو ایل او سی عبور کرکے دراندازی کی کوشش کرنے والے عسکریت پسند قرار دے کر حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی کھلی کوشش کی۔انہوں نے کہا کہ بھارتی حکام کے دعوئوں کی اقوام متحدہ کے زیر اہتمام کسی آزاد ادارے کے ذریعے مکمل، آزادانہ اور غیر جانب دارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔ایل او سی کے ساتھ بارودی سرنگیں بچھانے کے سنگین نتائج کو اجاگر کرتے ہوئے الطاف حسین وانی نے خبردار کیا کہ یہ بارودی سرنگیں شہریوں کی زندگیوں کے لیے بدستور ایک سنگین خطرہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب، برف پگھلنے اور زمین کے کٹائو کے باعث اکثر یہ دھماکا خیز آلات اپنی جگہ سے سرک کر ان علاقوں میں پہنچ جاتے ہیں جنہیں پہلے محفوظ سمجھا جاتا تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ اس صورت حال نے نہ صرف انسانوں بلکہ ان کے مویشیوں کی زندگیاں بھی خطرے میں ڈال دی ہیں۔انہوں نے اقوام متحدہ کے ماورائے عدالت ہلاکتوں سے متعلق خصوصی نمائندے پر زور دیا کہ وہ اس امر کا جائزہ لیں کہ آیا بارودی سرنگیں بچھانا اور بعد ازاں متاثرین کو عسکریت پسند قرار دینا حقِ زندگی کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔انہوں نے پانی اور نکاسی آب اور انسانی حقوق و ماحولیات سے متعلق اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ بارودی سرنگوں کی موجودگی اور ماحولیاتی عدم استحکام کے باعث بنیادی آبی ڈھانچے کی دیکھ بھال کرنے والے شہریوں کو درپیش خطرات کا نوٹس لیں۔
الطاف حسین وانی اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت پر دبا ڈالے کہ وہ عام شہریوں کی زندگی کو خطرے میں ڈالنے والی بارودی سرنگوں کا استعمال بند کرے، ایل او سی کے ساتھ بارودی سرنگوں کی جامع صفائی کا عمل شروع کرے اور شہری آبادی کو غیر امتیازی ہتھیاروں کے استعمال سے تحفظ فراہم کرنے والے مسلمہ بین الاقوامی اصولوں اور معیارات کی پابندی کرے۔








