بھارت

امریکہ: بھارت میں ’’ایس آئی آر‘‘ کے خلاف تارکینِ وطن بھارتی سڑکوں پر نکل آئے

دہلی اور دیگر شہروں میں حراست میں لیے گئے مظاہرین کی فوری رہائی کا مطالبہ

واشنگٹن: وزیرِاعظم نریندر مودی کی زیرِ قیادت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت کی جانب سے لاکھوں بھارتی شہریوں کو حقِ رائے دہی سے محروم کرنے کے خلاف جدوجہد کرنے والوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے امریکہ کے کئی شہروں میں تارکینِ وطن بھارتی شہری سڑکوں پر نکل آئے۔

یہ احتجاجی مظاہرے میساچوسٹس، نیو جرسی، جارجیا، ٹیکساس اور کیلیفورنیا میں کیے گئے۔ انڈین امریکن مسلم کونسل (آئی اے ایم سی) کے زیرِ اہتمام مظاہروں میں ہندوؤں اور دلتوں سمیت مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ یہ مظاہرے ووٹر فہرستوں کی خصوصی نظرثانی (ایس آئی آر) اور نئی دہلی سمیت دیگر شہروں میں ہزاروں پُرامن مظاہرین کو حراست میں لیے جانے کے خلاف کیے گئے۔

مظاہرین کے مطابق، پولیس نے طلبہ کو ٹرینوں اور بسوں سے گھسیٹ کر باہر نکالا، احتجاج کی کوریج کرنے والے صحافیوں کو حراست میں لیا اور ان پر تشدد کیا، جبکہ کاکروچ جنتا پارٹی کے رہنماؤں کو کمرشل پرواز سے حراست میں لیا گیا۔

اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق نے حراست میں لیے گئے تمام افراد کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ مظاہرین بھارتی چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کر رہے تھے، جن کی نگرانی میں خصوصی نظرثانی کے ذریعے 13 کروڑ 30 لاکھ ووٹروں کے نام ووٹر فہرستوں سے خارج کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

بوسٹن، میساچوسٹس میں آئی اے ایم سی کے بوسٹن چیپٹر، بوسٹن ساؤتھ ایشین کولیشن اور بوسٹن اسٹڈی گروپ کے زیرِ اہتمام ایک ریلی نکالی گئی۔ شرکاء نے ریاستی تشدد کے خاتمے، اختلافِ رائے کو جرم قرار دینے کا سلسلہ بند کرنے، خواتین مظاہرین کی بے حرمتی کرنے والے پولیس اہلکاروں کی معطلی اور بہار و مغربی بنگال کے انتخابات میں انتخابی بے ضابطگیوں پر جوابدہی کا مطالبہ کیا۔

آئزلن، نیو جرسی میں بھی بھارتی نژاد امریکی شہریوں نے ایس آئی آر کے خلاف ریلی نکالی اور ووٹر فہرستوں سے خارج کیے گئے تمام ووٹروں کے نام بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔

اٹلانٹا، جارجیا میں آئی اے ایم سی کے زیرِ اہتمام نیشنل سینٹر فار سول اینڈ ہیومن رائٹس کے باہر تقریباً دو گھنٹے تک احتجاج کیا گیا۔ ڈیلاس، ٹیکساس کے علاقے ویسٹ پلانو میں بھی ریلی نکالی گئی، جس میں مظاہرین نے ریاستی تشدد کے خاتمے، مظاہرین پر تشدد کے الزامات کا سامنا کرنے والے پولیس اہلکاروں کی معطلی اور ایس آئی آر ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔

فریمونٹ، کیلیفورنیا میں آئی اے ایم سی اور اس کے اتحادیوں، جن میں ہندوز فار ہیومن رائٹس اور اے کے ایس سی شامل ہیں، نے بھارتی چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے ڈھائی گھنٹے تک احتجاج کیا۔

آئی اے ایم سی کے صدر محمد جواد نے اس موقع پر کہا، ’’ہم بھارت کی آمرانہ حکومت کو ووٹروں کو بڑے پیمانے پر حقِ رائے دہی سے محروم کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ وہ دن ختم ہو گئے جب لوگ اس حکومت سے ڈرتے تھے۔‘‘

انہوں نے کہا، ’’یہ جمہوریت کی روح کی لڑائی ہے۔ دہلی میں طلبہ کو اپنے ووٹ کا حق مانگنے پر مارا پیٹا اور نظر بند کیا جا رہا ہے۔ ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں اور اس وقت تک نہیں رکیں گے جب تک ہر زیرِ حراست شخص آزاد نہیں ہو جاتا، گیانیش کمار مستعفی نہیں ہو جاتے اور ہر چھینا گیا ووٹ بحال نہیں ہو جاتا۔‘‘

آئی اے ایم سی نے تمام زیرِ حراست مظاہرین اور صحافیوں کی فوری رہائی اور ان کے خلاف درج تمام مقدمات واپس لینے کا مطالبہ کیا۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button