بھارتی وزیر دفاع کے جارحانہ بیانات علاقائی امن واستحکام کے لیے خطرہ ہیں، پاکستان
کشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازعہ خطہ ہے، ترجمان دفتر خارجہ
اسلام آباد: پاکستان نے بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے ان اشتعال انگیز بیانات” کی شدید مذمت کی ہے جن میں اسلام آباد کے خلاف فوجی جارحیت کی دھمکی دی گئی ہے۔ پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ اس طرح کی بیان بازی ”بالادستی کی بھارتی ذہنیت” کی عکاسی کرتی ہے اور یہ علاقائی امن و استحکام کے لیے خطرہ ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق، پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے آج اسلام آباد میں اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران اس بات کا اعادہ کیا کہ جموں و کشمیر ایک بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازعہ علاقہ ہے، جس کی حتمی حیثیت کا تعین اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق کیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارتی وزیر دفاع کے ان اشتعال انگیز ریمارکس کو مسترد اور ان کی مذمت کرتا ہے جن میں پاکستان کے خلاف بھارتی جارحیت کی دھمکی دی گئی ہے۔ اس طرح کے غیر ذمہ دارانہ بیانات بالادستی کی بھارتی ذہنیت اور اس کے جارحانہ رویے کی عکاسی کرتے ہیں، جو جنوبی ایشیا میں علاقائی امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔
دفتر خارجہ کے ترجمان کا یہ بیان راج ناتھ سنگھ کے اس دعوے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ سرحد پار سے کسی بھی نئی دہشت گردانہ سرگرمی کی صورت میں، پچھلی بار سے بھی بڑا حملہ کیا جائے گا”۔
بھارت نے گزشتہ برس اپریل میں مقبوضہ جموں وکشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں پیش آنے والے واقعے کے بعد اسکا الزام پاکستان پر عائد کر کے رات کی تاریخی میں حملہ کر کے خواتین اور بچوں سمیت کئی بے گناہ شہریوں کو شہید تھا۔ پاکستان نے اس بھارتی جارحیت اس کا جواب دیتے ہوئے بھارت کے آٹھ لڑاکا طیارے مار گرائے، جن میں فرانسیسی ساختہ تین جدید ترین ‘رافیل’طیارے بھی شامل تھے۔دفتر خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ ہم بھارت کو گزشتہ سال مئی میں اس کی فوجی جارحیت کے نتائج یاد دلانا چاہتے ہیں، جب پاکستان نے اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے اپنی صلاحیت اور عزم دونوں کا مظاہرہ کیا تھا اور بھارتی جارحیت کا بھرپور اور منہ توڑ جواب دیا تھا۔”انہوں نے زور دیکر کہا کہ اس حوالے سے "کوئی ابہام نہیں” ہونا چاہیے کہ پاکستان کسی بھی ” بیوقفانہ جارحیت” کے خلاف اپنی "خودمختاری اور علاقائی سالمیت” کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے "ضبط وتحمل اور امن کے عزم” کو کمزوری نہیں سمجھا جانا چاہیے،۔
انہوں نے کہا کہ "بھارت کو گزشتہ برس کے تجربے سے سبق سیکھنا چاہیے، اپنا جارحانہ رویہ اور خطرناک بیان بازی ترک کر دینی چاہیے، اور خطے میں پائیدار امن کے لیے ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
کشمیر تنازعہ سے متعلق ایک سوال کے جواب میں دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ 5 اگست 2019 کو جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بھارت کے اقدامات "غیر قانونی ا” تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس اقدام سے یہ حقیقت تبدیل نہیں ہو سکتی کہ کشمیر ایک بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازعہ علاقہ ہے، جس کی حتمی حیثیت کا تعین اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق کیا جانا باقی ہے۔









