مقبوضہ جموں وکشمیر:مسلمان پڑوسیوں نے پنڈت خاتون کی آخری رسومات ادا کر دیں

pandit

سرینگر14مئی (کے ایم ایس) غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں ضلع کولگام کے علاقے وائیکے پورہ میںمسلمانوں اور پنڈتوں نے ایک 80سالہ پنڈت خاتون کی آخری رسومات ملکر ادا کرکے بھائی چارے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کاصدیوں پرانا بندھن نبھانے اوراسے مزید مضبوط کرنے کا سلسلہ جاری رکھاہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق وائی کے پورہ کولگام کی 80سالہ پنڈت خاتون اپنے رشتہ داروں کی شادی کی تقریب میں شرکت کے لیے مٹن اسلام آباد گئی ہوئی تھی۔ تاہم وہاں اس کی حالت خراب ہو گئی اوروہ انتقال کرگئیں۔ اسے اس کے آبائی گائوں لایا گیا جہاں سینکڑوں مسلمان خاص طور پر پڑوسی اور مقامی لوگ اس کی میت کا انتظار کر رہے تھے۔مقامی لوگوں نے صحافیوں کو بتایا کہ وہ کئی دہائیوں سے ایک دوسرے کے ساتھ رہ رہے ہیں اور ان کاآپسمیں ایک مضبوط رشتہ ہے۔ایک مقامی شخص الطاف احمد نے بتایاکہ آنجہانی خاتون ایک عظیم انسان تھیں جو تہواروں کے موقع پر یا جب بھی ہمارا کوئی فوت ہوتا تھاتومسلمانوں کے گھر جاتی تھیں ۔وہ ہماری اجتماعی ثقافت کا حصہ تھیں اور آج ہمارا فرض ہے کہ ہم ان کی آخری رسومات کو ان کی مذہبی روایات کے مطابق ادا کریں۔ انہوں نے کہاکہ آنجہانی جانکی ناتھ کی بیوی 80سالہ دلاری بٹ نے اپنی ساری زندگی اپنے آبائی گائوں وائی کے پورہ میں علاقے کے لوگوں کے ساتھ گزاری۔دلاری کے بیٹے سباش بٹ نے کہا کہ وہ علاقے کے مسلمانوں کے شکر گزار ہیں جو دکھ کی اس گھڑی میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اکٹھے رہ رہے ہیں اور ہم نے کشمیر نہیں چھوڑا۔ انہوں نے کہا کہ ہم علاقے کے مسلمانوں کے ساتھ مل کر رہ رہے ہیں جو اس عظیم نقصان کے وقت ہمارے ساتھ ہیں۔دلاری کے رشتہ دار چونی لال بٹ نے وائی کے پورہ کے مسلمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر فرقہ وارانہ ہم آہنگی، بھائی چارے اور پنڈتوں اور مسلمانوں کے درمیان ایک عظیم اور مضبوط رشتے کی بہترین مثال ہے۔ آج علاقے کے مسلمان ہمارے ساتھ کھڑے ہوئے اور دلاری کی آخری رسومات میں شرکت کی۔ وہ اس وقت تک ہمارے ساتھ رہے جب تک کہ دلاری کی آخری رسومات ادا نہیں گئیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان اور پنڈت ایک دوسرے کے بغیر نامکمل ہیں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ اپنے ساتھی راہول بٹ کے قتل کے بعد جو ضلع بڈگام میں تحصیل آفس چاڈورہ میں کام کر رہا تھا،کشمیری پنڈتوں میں حکام کے خلاف شدید غم و غصہ پایاجاتا ہے۔ وہ اپنے تحفظ کو یقینی بنانے میں حکام کی ناکامی کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ اس قتل سے پورے مقبوضہ جموں وکشمیرمیں زبردست احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے اور مہاجر کشمیری پنڈت اپنے تحفظ اور محفوظ پوسٹنگ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: