بھارت

بھارتی الیکشن کمیشن کا نفرت پھیلانے والے سیاست دانوں کے خلاف کارروائی میں ناکامی کا اعتراف

نئی دلی14 ستمبر (کے ایم ایس)
بھارتی الیکشن کمیشن نے نفرت پھیلانے والے سیاست دانوں کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکامی کا اعتراف کیا ہے ۔ الیکشن کمیشن نے آج بھارتی سپریم کورٹ کو بتایا کہ اس کے پاس نفرت انگیز تقاریر کی وجہ سے کسی سیاسی جماعت یا اس کے اراکین پر پابندی لگانے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے ایک بیان حلفی میں واضح کیاہے کہ کیونکہ بھارت میں نفرت انگیز تقاریر کو روکنے کے لیے کوئی خاص قانون موجود نہیں ہے، اس لیے نفرت انگیز تقاریر کرنے والوں کے خلاف تعزیرات ہند اور عوامی نمائندگی کے ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت کارروائی کی گئی تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ سیاسی جماعتوں کے اراکین ایسے تبصرے یا بیانات نہ دیں جن سے معاشرے انتشاراور بدامنی پیدا ہو۔الیکشن کمیشن نے یہ بیان ایک وکیل ایڈووکیٹ اشونی اپادھیائے کی درخواست کے جواب میں سپریم کورٹ میں جمع کرایا ہے جس میں بھارتی حکومت سے نفرت انگیز تقاریر پر لا کمیشن کی رپورٹ کی سفارشات پر عمل درآمد کرنے کو کہا گیا تھا۔اپادھیائے کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ شہریوں کو پہنچنے والی زخم بہت زیادہ ہے کیونکہ ‘نفرت انگیز تقاریر اور افواہ پھیلانے والے ‘لوگوںیا معاشرے کو دہشت گردی، نسل کشی اور نسلی تطہیر کے لیے اکسانے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔الیکشن کمیشن نفرت انگیز تقریر یا بیان دینے والے امیدواریاشخص کے خلاف اس کے جواب کی بنیاد پر مختلف اقدامات کرتا ہے، جوکہ انہیں احتیاط کرنے کے لیے ایڈوائزری جاری کرنا یا ایک مخصوص مدت کے لیے مہم چلانے سے روکنے یا پھر دوبارہ اعادہ کرنے کی صورت میں مجرمانہ شکایت کے اندراج پر مشتمل ہیں۔
واضح ر ہے کہ بی جے پی اور شیو سینا سمیت دائیں بازو کی جماعتوں کے رہنما ہندو ووٹرز کی حمایت حاصل کرنے کے لیے اقلیتی برادریوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز تقاریرکرتے ہیں۔ تاہم یہ انتہا پسند رہنما قانون سے بچ جاتے ہیں کیونکہ الیکشن کمیشن کے پاس ان کے خلاف کارروائی کرنے اور انہیں سزا دینے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔

متعلقہ مواد

Leave a Reply

Back to top button
%d