کپواڑہ، راجوری اضلاع میں قابض بھارتی حکام کی عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف مظاہرے
سرینگر :بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے کپواڑہ اور راجوری اضلاع میں لوگوںنے قابض بھارتی انتظامیہ کی عوام دشمن پالیسیوںکیخلاف زبردست احتجاجی مظاہرے کئے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ضلع کپواڑہ کے علاقے ہندواڑ وڈی پورہ کے رہائشیوں نے محکمہ آبی حکام کی جانب سے پینے کے پانی کی فراہمی میں ناکامی کے خلاف ہندواڑہ-راجوار روڈ بلاک کر دی۔ احتجاج کے باعث درجنوں گاڑیاں پھنس گئیں۔مظاہرین میں بڑی تعداد خواتین بھی شامل تھیں ۔ انہوںنے متعلقہ حکام کے خلاف نعرے لگائے ۔ مظاہرین کا کہنا تھاکہ انہیں برسوں سے پینے کے پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ ایک رہائشی شاکر بٹ نے کہا کہ ہم ایک دہائی سے پینے کے پانی سے محروم ہیں۔ محکمہ ہمیں مناسب پانی فراہم کرنے میں بری طرح ناکام رہا ہے ۔مکینوں کا کہنا تھا کہ وہ بارہا اس مسئلے کو حکام سے اٹھا چکے ہیں لیکن وہ ٹس سے مس نہیں ہو رہے۔ انہوںنے کہا کہ ہم نے ماضی میں کئی بار احتجاج کیا، لیکن ہمارے مسائل کے حل کے لیے کچھ نہیں کیا گیا۔ ، ہمیں تقریبا 10 کلومیٹر دور ایک تالاب سے پانی لانے کے لیے ایک ٹریکٹر کے مالک کو 500 روپے ادا کرنے پڑتے ہیں۔مظاہرین نے دھمکی دی کہ اگر حکام نے ان کے مسئلے کی طرف فوری توجہ نہ دی تو وہ اپنے احتجاج میںتیزی لائیں گے۔
دریں اثنا راجوری کے علاقے تھانہ منڈی میں مقامی ہسپتال میں صحت کی ناکافی سہولیات کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ تھانامنڈی ہسپتال میں ہنگامی اور خصوصی صحت کی سہولیات کا فقدان ہے، جس سے علاقے کی وسیع آبادی کے لیے دستیاب صحت کی دیکھ بھال کی خدمات کے بارے میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔انہوں نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر قاض حکام کی بے حسی کے خلاف نعرے درج تھے۔ مظاہرین نے کہا کہ حکام نے بارہا تھانہ منڈی میں صحت کی سہولیات بہتر بنانے کے وعدے کیے جو کئی برس گزرنے کے باوجود پورے نہیں ہوئے۔مظاہرین نے محکمہ صحت پر زور دیا کہ وہ تھنہ منڈی ہسپتال کو سب ڈسٹرکٹ ہسپتال میں اپ گریڈ کرنے کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات کریں اور ڈاکٹر، ایمرجنسی سہولیات، تشخیصی خدمات، ایمبولینس، طبی آلات اور دیگر ضروری انفراسٹرکچر فراہم کریں۔







