مقبوضہ جموں وکشمیر میں پیش آنے والے حالیہ واقعات دفعہ 370کی منسوخی کا نتیجہ ہیں، پنڈت رہنما

سرینگر10اکتوبر( کے ایم ایس)بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کشمیری پنڈتوں کی نمائندہ تنظیم ” کشمیری پنڈت سنگرش سمیتی“ کے سربراہ سنجے کے ٹکو( Sanjay K Tickoo) نے علاقے میں حالات ٹھیک ہونے کے مودی حکومت کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا لگتا ہے جیسے یہاں 1990 جیسی صورتحال واپس آگئی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ جموں وکشمیر میں قتل کے حالیہ واقعات کے تناظر میں سنجے کے ٹکو نے سرینگر میں ایک میڈیا انٹرویو میں کہا کہ یہ واقعات آرٹیکل 370 کی منسوخی ، مقامی لوگوں کی آواز کو دبانے اور کشمیر سے باہر رہنے والی پنڈت برادری کے ارکان کی طرف سے منعقد کی جانے والی جشن کی تقریبات کا نتیجہ ہیں۔ا نہوں نے کہا کہ پنڈت برادری کے افراد نے رقص کیا اور کہا کہ انہوں نے کشمیری مسلمانوں کو شکست دی ہے۔
سنجے کے ٹکو نے کہا کہ دفتہ 370 کشمیریوں کی شناخت تھی جسے ختم نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ انہیں زندگی میں پہلی بار اس وقت ڈر لگا جب 5اگست 2019کو دفعہ 370ختم کی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت 808 پنڈت خاندان وادی کشمیر میں مقیم ہیں۔۔
Sanjay K Tickoo نے مقبوضہ جموں وکشمیر کی قابض بھارتی انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ پنڈتوں کی حفاظت کرنے میں بری طرح ناکام رہی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: