مقبوضہ جموں و کشمیر

امتیاز ڈارکو بھارتی فوجیوں نے جعلی مقابلے میں شہید کیا: اہلخانہ

 

 

FACKسرینگر 12 اکتوبر (کے ایم ایس) غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں پیر کو ضلع بانڈی پورہ میں بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں شہیدہونے والے نوجوان امتیاز احمد ڈار کے اہلخانہ نے کہا ہے کہ ان کے بیٹے کو بھارتی فوجیوں نے ایک جعلی مقابلے میں شہید کیا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ امتیاز احمد ڈار ایک عسکریت پسند ہے اور وہ ضلع کے علاقے گنڈ جہانگیر میں فوجیوں کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں مارا گیا۔25 سالہ امتیاز ڈار کے کزن اشفاق احمد خان نے صحافیوں کو بتایا کہ امتیاز کے لاپتہ ہونے کے بعد اس کے گھر والوں نے اسے ہر جگہ تلاش کیا لیکن اس کے بارے میں اس وقت تک کوئی سراغ نہیں مل سکا جب تک یہ پتہ چلا کہ بھارتی فوجیوں نے اسے مار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک جعلی مقابلہ تھا۔ پولیس نے دعویٰ کیا کہ امتیاز احمد ڈار گزشتہ ہفتے مقامی ٹیکسی ڈرائیورز ایسوسی ایشن کے صدر محمد شفیع عرف سونو کے قتل میں ملوث تھا۔ شفیع کو نامعلوم مسلح افراد نے 5 اکتوبر کو بانڈی پورہ کے علاقے شاہ گنڈ میں گولی مار کر قتل کیاتھا۔تاہم اہل خانہ نے بتایا کہ جس دن شفیع کو قتل کیا گیااس دن امیتازاپنے دھان کے کھیتوں میں کام کر رہا تھا اوروہ شام کو گھر واپس آیا۔اشفاق خان نے کہاکہ اگلے دن بھی وہ میرے ساتھ دھان کے کھیتوں میں کام کر رہا تھا۔ صبح تقریبا ساڑھے گیارہ بجے اس کو فوج کی طرف سے کال موصول ہوئی جس میں اس کے بارے میں پوچھا گیا۔انہوں نے کہاکہ ہم کٹائی میں مصروف تھے جب اس کے ایک دوست نے اسے فون کیا کہ فوج اسے ڈھونڈ رہی ہے۔ اس کے فورا بعد اسے ایک اور فون آیا اور اس بار فوج کی کال تھی جو اسے بلا رہی تھی کہ وہ فوری طور پر ان کے پاس آئے۔ انہوں نے کہا کہ کال موصول ہونے کے بعدامتیاز ڈار نے فوری طور پرکپڑے تبدیل کئے اور فوج سے ملنے کے لیے روانہ ہو گیا۔انہوں نے کہا کہ جب ڈار دھان کے کھیت سے باہر نکلا اور گلی کی طرف بڑھا تو انہوں نے دیکھا کہ فوج کی گاڑیاں اسی سمت آ رہی تھیں۔اشفاق خان نے کہا کہ ہم نہیں جانتے کہ اسے فوج نے اسی وقت اٹھایا تھا یا نہیں۔لیکن اس کے جانے کے ایک گھنٹے بعد ہم نے اس کے سیل فون پر کال کی جو بند جارہا تھا۔ اس کے بعد امتیازکا کوئی پتہ نہیں چلا۔ اشفاق خان نے کہا کہ اسی دن جب امتیاز ڈار غائب ہوگیا،بھارتی فوج نے ان کے اہلخانہ کوبھی جن میں ان کے والد ، بھائی اور دو بہنوئی شامل تھے، پولیس نے اٹھا لیا۔

متعلقہ مواد

Leave a Reply

Back to top button
%d