ممبئی میں ہندو انتہاپسندوں کی نفرت انگیز تقاریر، مسلمانوں کے معاشی بائیکاٹ کی اپیل

ممبئی28فروری(کے ایم ایس) بھارتی سپریم کورٹ کی ممانعت اور وارننگ کے باوجود ہندو انتہاپسندوں نے ممبئی میں ریلی نکالی اورریلی کے دوران نفرت انگیز تقاریر کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے معاشی بائیکاٹ کی کال بھی دی ۔
ریلی کا اہتمام فرقہ وارانہ ایجنڈے کو آگے بڑھانے اور نام نہادلو جہاد ، گائے کے ذبیحہ اور غیر قانونی تجاوزات سے نمٹنے کے لیے ریاستی حکومت پر دبائو بڑھانے کے لیے کیا گیا تھا۔ایک رپورٹ کے مطابق نوی ممبئی میں سکل ہندو سماج کی جانب سے لو جہاد اور لینڈ جہاد کے خلاف احتجاج کے لیے ریلی نکالی گئی ۔ مظاہرین نے بھگوا جھنڈے لہراتے اور مسلم مخالف نعرے لگاتے ہوئے تقریبا 3 کلومیٹر تک مارچ کیا۔انڈین ایکسپریس کے مطابق مظاہرین میں بی جے پی کے رکن اسمبلی گنیش نائک اور وشوا ہندو پریشد اور بجرنگ دل جیسی ہندو انتہا پسند تنظیموںکے رہنما اور کارکن شامل تھے۔انڈین ایکسپریس کے مطابق گجرات سے تعلق رکھنے والی کاجل شنگل نے اپنی گمراہ کن تقریر میں کہاکہ نوی ممبئی میں لینڈ جہاد اتنا عام ہو چکا ہے کہ آج 25بنگلہ دیشی مسلمان ایک کمرے میں رہتے ہیں۔انہوں نے لوگوں سے مسلمان دکانداروں کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے دعویٰ کیاکہ مسلمانوںنے ہماری پیداوار اور پھلوں کی منڈیوں پر قبضہ کر لیا ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ ہم ان کا معاشی بائیکاٹ کریں گے۔مقررین نے نفرت انگیز تقاریر نہ کرنے کے وعدے کے باوجود اشتعال انگیز نعرے لگائے ،لوگوں کومسلمانوں کے خلاف تشدد پر اکسایا اور نفرت انگیز اور بے ہودہ زبان استعمال کی۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: