مودی حکومت حریت رہنما فاروق ڈار کو سزا دینے کی تیاری کر رہی ہے

سرینگریکم اپریل(کے ایم ایس) غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں نریندر مودی کی فسطائی بھارتی حکومت آر ایس ایس کے زیر اثر عدلیہ کو استعمال کرتے ہوئے جیل میں نظر بند حریت رہنما فاروق احمد ڈار کو سزائے موت یا عمر قید کی سزا دینے کی تیاری کر رہی ہے۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق اس سلسلے میں جمعہ کو سرینگر کی ایک عدالت نے فاروق احمد ڈار عرف بٹہ کراٹے کے خلاف 1990میں درج کیے گئے قتل کے ایک جھوٹے مقدمے کو دوبارہ کھولنے کی درخواست کی سماعت کی اور آئندہ سماعت 4مئی کو مقررکی ہے۔ بھارتی سپریم کورٹ نے اسی کیس کے سلسلے میںایک این جی او کی جانب سے دائر کی گئی درخواست کو خارج کر دیا تھا جس میں کیس کی تحقیقات کی استدعا کی گئی تھی۔فاروق احمد ڈار کو جون 1990میں کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ (PSA)کے تحت گرفتار کیا گیاتھا اور وہ 2006تک جیل میں رہے جس کے بعد انہیں غیر معینہ مدت کے لیے ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔ جولائی 2017میں بھارت کے بدنام زمانہ تحقیقاتی ادارے این آئی اے کے ہاتھوں ایک اور جھوٹے مقدمے میں گرفتاری کے بعد وہ اس وقت نئی دہلی کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں نظر بند ہیں۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ این آئی اے کی ایک خصوصی عدالت پہلے ہی غیر قانونی طور پر نظر بند حریت رہنما محمد یاسین ملک کو عمر قید کی سزا سنا چکی ہے۔بھارتی سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ عمر قید کا مطلب ہے کہ قیدی اس وقت تک جیل میں رہے گا جب تک وہ زندہ ہے۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: