بھارت :بی جے پی حکومت نے سہارنپور میں کلکٹریٹ کمپلیکس کے اندر واقع مسجد کو منہدم کردیا
سہارنپور: بی جے پی کے زیر اقتدار بھارتی ریاست اترپردیش کے ضلع سہارنپور میں کلکٹریٹ کمپلیکس کے اندر واقع مسجد کو ہفتے کی صبح پانچ بجے منہدم کردیا گیا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق حیدرآبادشہر سے بھارتی پارلیمنٹ کے رکن اور مجلس اتحادالمسلمین کے صدر اسد الدین اویسی نے ایکس پر ایک پوسٹ میں سوال اٹھایا کہ کیا مسلمانوں کے لیے مذہبی آزادی کا آئینی حق ختم ہو گیا ہے؟ گھٹیا اور من گھڑت بہانوں کی بنیاد پر ہماری عبادت گاہوں کے خلاف بار بار بلڈوزر کیوں استعمال کیے جاتے ہیں؟اسد الدین اویسی نے مسجد کمیٹی کے دلائل کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ مسجد کمیٹی نے عدالت میں 1911 کے دستاویزات پیش کرکے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ مسجد کلکٹریٹ کی تعمیر سے پہلے موجود تھی۔ وہاں ایک صدی سے مسلسل نمازیں ادا کی جاتی رہی ہیں۔ رکن پارلیمنٹ نے کہاکہ سب سے پہلے وہاں مسجد تھی۔ کلکٹریٹ بعد میں بنایا گیا۔کچھ لوگ مسجد کو دیکھ کر پریشان ہو سکتے ہیں۔ لیکن یہ ان کا مسئلہ ہے، ہمارا نہیں۔ لیکن آپ صرف اپنی نفرت کو ہوا دینے کے لیے ہماری مسجد پر بلڈوزر نہیں چلا سکتے۔ انہوںنے اپنی پوسٹ میں لکھاکہ میری مذہبی آزادی آپ کے احسان پر منحصر نہیں ہے۔
دریں اثنا ءکانگریس کے رکن پارلیمنٹ عمران مسعود نے مسجد کو منہدم کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ مسجد 1911 سے پہلے سے موجود تھی۔ انہوں نے کہا کہ جائیداد کے حقوق اب بھی واحد خان اور یعقوب خان کے نام پر رجسٹرڈ ہیں۔مسعود نے کہاکہ ہمارے لوگ رات بھر جاگتے رہے، ہم حکام سے رابطہ کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ تمام معلومات فراہم کرنے کے باوجود نہ صرف مسجد کو منہدم کیا گیا بلکہ آئین کی کھلی خلاف ورزی کی گئی۔انہوں نے کہاکہ وقف بورڈ کو کارروائی میں فریق نہیں بنایا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے کو قانونی طور پر چیلنج کیا جائے گا۔
سماج وادی پارٹی کی رکن پارلیمنٹ اقرا حسن نے مسجد کے انہدام کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ اگر تمام فیصلے صرف اور صرف حکومت کی خواہش پر ہونے ہیں تو پھر امن و امان یا عدالتی نظام کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔اقرا حسن کو سہارنپور جانے سے روکنے کے لئے ان کی کیرانہ کی رہائش گاہ پر نظر بند کر دیا گیا۔ اقرا حسن نے صحافیوں کو بتایا کہ رات بھر ان کے گھر کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات رہی اور انہیں سہارنپور جانے سے روک دیا گیا۔انہوں نے کہاکہ جمہوریت میں عوامی نمائندے عوام کی آواز بلند کرنے کے لیے منتخب کیے جاتے ہیں، مجھے روک کر اس آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی سربراہ مایاوتی نے مساجد کو منہدم کرنے کی اتر پردیش حکومت کی مہم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کواسے فوری طور پر روکنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ آئینی اور سیکولر حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام مذاہب کے لوگوں کا احترام کرے اور ان کے مذہبی مقامات کی حفاظت کرے۔








