ہزاروں لاپتہ کشمیریوں کے اہلخانہ اپنے پیاروں کے منتظر ہیں: رپورٹ

سرینگر 30 اگست (کے ایم ایس)غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں گزشتہ 32سال کے دوران بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں نے ہزاروں کشمیریوں کو دوران حراست لاپتہ کیا ہے۔
آج لاپتہ افراد کے عالمی دن کے موقع پر کشمیر میڈیا سروس کے ریسرچ سیکشن کی طرف سے جاری کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق جموں و کشمیر دنیا کا سب سے زیادہ فوجی جماﺅ والا علاقہ ہے جہاںبھارتی فوجی گزشتہ کئی دہائیوں سے بے خوف ہوکر لوگوں کاقتل عام کررہے ہیں، انہیںجبری طورپر لاپتہ کررہے ہیں ، ان کوتشددکا نشانہ بناتے ہیں اورخواتین کی عصمت دری سمیت دیگر مظالم کا نشانہ بناتے ہیں۔بھاتی فوجیوں، پیراملٹری فورسز اورپولیس اہلکاروں نے 1990 سے 8ہزار سے زائد نوجوانوں کودوران حراست لاپتہ کیا ہے۔ رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ لاپتہ افراد کے 2لاکھ سے زائد رشتہ داراپنے پیاروں کا سراغ لگانے کے لئے انتھک کوششیں کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ لاپتہ افراد کے خاندان اقتصادی طور پربھی متاثر ہوئے ہیںکیونکہ زیادہ تر معاملات میںخاندان کی کفالت کرنے والوں کو ہی نشانہ بنایا گیا ہے۔ جبری گمشدگیوں سے نہ صرف مخالفین کو خاموش کیاجاتا ہے بلکہ وسیع پیمانے پر لوگوں میں غیر یقینی اور خوف وہراس کی فضابھی پیداکی جاتی ہے۔ یہ غیر انسانی اورظالمانہ کارروائیاں نام نہاد سکیورٹی نظام میں شامل تمام اداروں کی طرف سے ہورہی ہیں جن میں بھارتی فوج، پیراملٹری فورسز اور پولیس کی سپیشل ٹاسک فورس شامل ہیں۔ جبری گمشدگیوں کے ظالمانہ عمل سے لوگوں میں نیم بیوہ اور نیم یتیموں کا ایک نیا طبقہ وجود میں آیا ہے۔ بھارتی فوجیوں کوکالے قوانین آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ، ڈسٹربڈ ایریا ایکٹ، پبلک سیفٹی ایکٹ اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون کے تحت استثنیٰ حاصل ہے جس کی وجہ سے ان کو کسی بھی شخص کو قتل ، گرفتار اورہراساں کرنے اور املاک کو تباہ کرنے کا لائسنس حاصل ہے۔
دریں اثناءزمرودہ حبیب، یاسمین راجہ، فریدہ بہن جی، شبیر احمد ڈار، محمد احسن انتو، جموں و کشمیر سوشل اینڈ جسٹس لیگ سمیت حریت رہنماو¿ں، تنظیموں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے سرینگر میںجاری اپنے بیانات میں لاپتہ افراد کے اہلخانہ کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیاہے۔انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ ہزاروں لاپتہ کشمیریوںکو تلاش کرنے میںاپنا کردار ادا کرے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: