مضامین

اقوام متحدہ کا نقشہ: بھارت کی توثیق کے بعد تردید

ارشد میر

کشمیر کا تنازع محض نقشے پر کھینچی گئی چند لکیروں کا نام نہیں بلکہ یہ ایک ایسا بین الاقوامی مسئلہ ہے جو کئی دہائیوں سے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود ہے۔ حالیہ دنوں میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب سے عالمی نقشوں میں جغرافیائی حجم کی زیادہ درست عکاسی کے لیے قرارداد کی منظوری اور اس کے بعد پیدا ہونے والی بحث نے ایک بار پھر یہ بنیادی سوال سامنے لا کھڑا کیا ہے کہ کیا کوئی ملک یکطرفہ طور پر کسی متنازع خطے کو اپنی حتمی ملکیت قرار دے سکتا ہے؟

4 ستمبر 2026 کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک قرار داد منظور کی جس کا بنیادی مقصد ایسی نقشہ نما پروجیکشنز کے استعمال کو فروغ دینا ہے جو براعظموں خصوصا افریقہ کے حقیقی زمینی حجم کو زیادہ درست انداز میں ظاہر کرے۔ اس میں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو پاکستان کا حصہ دکھایا گیا اور اہم ترین بات یہ ہوئی کہ بھارت نے اپنے روائتی اور غیر حقیقت پسندانہ موقف کے برخلاف 163 ممالک کے ہمراہ اس کے حق میں ووٹ دیا۔ صرف ایک امریکہ نے اسکی مخالفت میں ووٹ دیا۔مزے کی بات یہ ہوئی کہ اقوامِ متحدہ کے اس نئے نقشے میں اروناچل پردیش کو ایک علیحدہ خطہ قراردیا گیا ہے ۔ نقشے میں اروناچل پردیش کی ناگالینڈ کے ساتھ سرحد ختم کر دی گئی ہے جبکہ اس خطے کو ایک علیحدہ ریاست کے طور پر دکھایا گیا ہے جس کی سرحدیں آسام اور چین سے ملتی ہیں۔بھارت کے کئی مبصرین اسے بھارت کے لئے ایک بڑاسفارتی تازیانہ قرار دیتے ہیں۔ اس ایک نقشے میں بھارت کے لئے دو جھٹکے ہیں اور اس سے بھی دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارت نے اسکی توثیق کردی۔

بھارت کے اس اقدام کو جب مقامی اور عالمی سطحوں پر اس کے اپنے موقف سے انحراف اور مسلہ کشمیر کی تاریخی اور قانونی حییثت کو تسلیم کئے جانے سے تعبیر کیا جانے لگا تو مودی سرکار نے خود کو بچانے کے لئے فورا پلٹی کھائی اور مذکورہ قرارداد کے خلاف بیان داغ دیا۔ بھارتی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ جموں و کشمیر اور لداخ کے وفاقی زیرِ انتظام علاقوں کو اقوام متحدہ کے مجوزہ عالمی نقشے میں صرف بھارت کے سرکاری نقشے کے مطابق دکھایا جانا چاہیے اور کوئی بھی’ غلط یا گمراہ کن نقشہ’ قابلِ قبول نہیں ہو گا۔ بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا ہے کہ عالمی نقشے کے حوالے سے مذکورہ قرارداد کسی مخصوص نقشے، پروجیکشن یا قومی سرحدوں کی عکاسی کی حمایت نہیں کرتی۔ انھوں نے کہا کہ بھارت نے مساوی رقبے والے نقشوں کے استعمال کے بنیادی اصول کے تحت مذکورہ قرارداد کو ووٹ دیا۔ مگر ان تاویلوں کے باوجود بھارتی حکومت اپنی بہت بڑی سفارتی غلطی یا حقیقت کے اعتراف کو چھپا نہیں پائی اور دنیا کے مبصرین اور سفارتکا ر بدستور بھارت کے عمل کو آزاد کشمیر، گلگت بلتستان کو پاکستان کا حصہ تسلیم کرنے سے ہی تعبیر کرتے ہیں۔ بلکہ بھارتی حکومت کی یہ تاویل بھی اسکے گلے پڑ رہی ہے اور اسکے کشمیر کے حوالہ سے موقف اور دعوے کی دھجیاں اڑاتی ہے۔ بھارتی وزارتِ خارجہ کی یہ بات کہ جنرل اسمبلی کی قرارداد کسی مخصوص سیاسی نقشے، بین الاقوامی سرحد یا متنازع علاقے کی حتمی حیثیت طے نہیں کرتی، اصولی طور پر از خود بھارت کے خلاف ایک اہم نکتہ بھی فراہم کرتی ہے کہ اگر قرارداد واقعی سیاسی سرحدوں کی حتمی توثیق نہیں کرتی تو پھر بھارت کے سرکاری نقشے کو اقوامِ متحدہ کے لیے لازمی اور واحد قابلِ قبول نقشہ قرار دینے کا دعویٰ کیسے کیا جا سکتا ہے؟ یوں بھارتی وضاحت دراصل یہ تسلیم کرتی ہے کہ عالمی نقشہ سازی اور خودمختاری کا قانونی فیصلہ دو الگ الگ معاملات ہیں۔

یہ ایک اہم نکتہ ہےکہ نقشہ اور قانونی حیثیت ایک چیز نہیں ہے۔ اقوامِ متحدہ کی اپنی جغرافیائی ویب سائٹ پر جولائی 2026 کا عالمی نقشہ موجود ہےمگر کسی نقشے میں کسی خطے کی ظاہری پوزیشن کو کسی ملک کی خودمختاری کا حتمی قانونی فیصلہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یہی وہ بنیادی فرق ہے جسے بھارت نظرانداز کرتا ہے۔ نئی دہلی اگر اپنے سرکاری نقشے کو حتمی اور ناقابلِ بحث سمجھتی ہے تو پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ بین الاقوامی سطح پر متنازع علاقوں کی حیثیت سے متعلق اقوامِ متحدہ کے طویل عرصے سے موجود ریکارڈ کا کیا جواب دیتی ہے؟

پاکستان نے فوری ردعمل کے تحت بھارتی تاویلوں کے غبارے کو یہ کہتے ہوئے پھاڑ دیا کہ بھارت کے یکطرفہ اقدامات اور مسلسل جابرانہ اور غیر قانونی تسلط جموں و کشمیر کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتے۔ پاکستان نے یہ بھی کہا کہ اقوامِ متحدہ کے سرکاری نقشے جموں و کشمیر کو متنازع خطے کے طور پر ظاہر کرتے ہیں اور بھارت کے یکطرفہ نقشے یا خودمختاری کے دعوے اس قانونی حیثیت پر اثرانداز نہیں ہوتے۔

اصل معاملہ بھی یہی ہے۔ بھارت نے 2019 میں آئینی جارحیت کے ذریعے مقبوضہ جموں و کشمیر کی انتظامی و آئینی حیثیت تبدیل کی لیکن کسی ریاست کا داخلی قانون یا پارلیمانی اقدام بین الاقوامی تنازع کی حتمی حیثیت خود بخود تبدیل نہیں کرتا۔ پاکستان مسلسل اس مؤقف پر قائم ہے کہ جموں و کشمیر کا حتمی فیصلہ اقوامِ متحدہ کی متعلقہ سلامتی کونسل قراردادوں، بین الاقوامی قانون اور کشمیری عوام کی آزادانہ مرضی کے مطابق ہونا چاہیے۔

پاکستانی وزارتِ خارجہ نے 2026 میں اور اس سے پہلے بھی متعدد مواقع پر یہی مؤقف دہرایا ہے۔
بھارتی مؤقف کی کمزوری صرف نقشے کے تنازع تک محدود نہیں۔ نئی دہلی ایک طرف کشمیر کو اپنا ’’اٹوٹ انگ‘‘ قرار دیتی ہے اور دوسری طرف وہ اس مسئلے پر پاکستان اور کشمیری عوام کے ساتھ کسی ایسے عمل سے گریز کرتی ہے جس میں کشمیریوں کی آزادانہ سیاسی رائے مرکزی حیثیت رکھتی ہو۔ سوال یہ ہے کہ اگر بھارت اپنے دعوے پر اتنا ہی پُراعتماد ہے تو پھر آزادانہ اور غیر جانب دارانہ سیاسی عمل سے خوف کیوں؟ استصواب رائے کے ذریعہ قضیہ کو نمٹانے کے اپنے وعدوں سے فرار کیوں؟

اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے حوالے سے پاکستان کا دیرینہ مؤقف بھی یہی ہے کہ حتمی تصفیہ کشمیری عوام کی مرضی سے ہونا چاہیے۔ پاکستانی وزارتِ خارجہ نے واضح کیا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود قدیم ترین حل طلب تنازعات میں شامل ہے اور اس کی حتمی حیثیت کا تعین متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی مرضی کے مطابق ہونا چاہیے۔

بھارت کا ایک اور اہم حربہ یہ ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے انتظامی ڈھانچے، انتخابات، ترقیاتی منصوبوں اور داخلی قوانین کو اپنے دعوے کی دلیل کے طور پر پیش کرتا ہے۔ مگر یہاں بھی قانونی سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کسی متنازع علاقے میں انتظامی کنٹرول اس علاقے کی حتمی بین الاقوامی حیثیت کا فیصلہ نہیں کرتا۔ پاکستان نے اسی بنیاد پر بھارتی حد بندی اور دیگر یکطرفہ اقدامات کو بھی مسترد کیا ہے اور کہا ہے کہ ایسے اقدامات متنازع خطے کی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتے۔

مسئلے کا انسانی پہلو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان مسلسل مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق، سیاسی آزادیوں اور شہری آزادیوں کے حوالے سے تشویش ظاہر کرتا چلا آرہا ہے۔ اسکا کہنا ہے کہ طویل فوجی موجودگی، سخت قوانین، گرفتاریوں اور سیاسی سرگرمیوں پر پابندیوں جیسے معاملات نے خطے کی صورت حال کو مزید پیچیدہ کیا ہے۔ اس تناظر میں کشمیر کو صرف ’’سرحدی تنازع‘‘ کہہ کر محدود کرنا بھی مسئلے کی اصل نوعیت کو کم کرکے پیش کرنا ہے۔ یہ ایک سیاسی، قانونی، انسانی اور علاقائی مسئلہ ہےجس کے اثرات پاکستان اور بھارت دونوں سے آگے جنوبی ایشیا کے امن و استحکام تک پھیلتے ہیں۔ ایٹمی طاقتوں کے درمیان موجود یہ دیرینہ تنازع معمولی سفارتی اختلاف نہیں بلکہ ایک ایسا فلیش پوائنٹ ہے جہاں غلط فہمی یا اشتعال پورے خطے کے لیے خطرناک نتائج پیدا کر سکتا ہے۔

اقوام متحدہ کے حالیہ نقشہ تنازع نے ایک بار پھر واضح کردیا ہے کہ نقشے دعوے دکھا سکتے ہیں مگر دعوے بذاتِ خود قانونی حقیقت نہیں بن جاتے۔ بھارت اپنے سرکاری نقشوں میں جموں و کشمیر کو جس طرح بھی دکھائے، اس سے بین الاقوامی فورمز پر مسئلے کی تاریخی موجودگی ختم نہیں ہوتی۔ اسی طرح کسی ملک کا یکطرفہ آئینی یا انتظامی اقدام بین الاقوامی تنازع کو اپنی مرضی سے ختم نہیں کرسکتا۔

کشمیر کے مسئلے کا پائیدار حل طاقت، نقشہ سازی یا یکطرفہ اقدامات میں نہیں بلکہ مذاکرات، بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق اور کشمیری عوام کی حقیقی سیاسی خواہشات کو سامنے رکھنے میں ہے۔ پاکستان کا مؤقف بھی یہی ہے کہ بھارت کو یکطرفہ اقدامات کے بجائے بین الاقوامی ذمہ داریوں اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق مسئلے کے پرامن حل کی طرف بڑھنا چاہیے۔

بھارت مانے یا نہ مانے، یہ بات طے ہے کہ جموں و کشمیر کی حقیقت کسی ایک ملک کے جاری کردہ نقشے سے طے نہیں ہوگی۔ اصل امتحان یہ ہے کہ عالمی برادری اپنے اصولوں، اپنی قراردادوں اور اپنے ہی قائم کردہ بین الاقوامی نظام کے ساتھ کس حد تک وفادار رہتی ہے۔ اگر اقوامِ متحدہ کے سامنے موجود ایک دیرینہ تنازع کو محض طاقت کے توازن، انتظامی کنٹرول یا یکطرفہ دعووں کی بنیاد پر نظرانداز کیا جاتا رہا تو نقصان صرف کشمیری عوام کا نہیں ہوگا بلکہ بین الاقوامی قانون کی ساکھ بھی مجروح ہوگی۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں بھارت کے ’’حتمی خودمختاری اور اٹوٹ انگ‘‘ کے دعوے اور مقبوضہ جموں و کشمیر کی زمینی ، تاریخی اور بین الاقوامی قانونی حیثیت کے درمیان بنیادی تضاد پوری طرح نمایاں ہوجاتا ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مزید دیکھئے
Close
Back to top button