آغا سید حسن کا کشمیری نوجوانوں کی بلا جواز گرفتاری پر اظہار تشویش

سرینگر: بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما اور انجمن شرعی شیعیان کے صدر آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے بھارتی فورسز کی طرف سے کشمیری نوجوانوں کی بلاجواز گرفتاریوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق آغا سید حسن نے آج مرکزی امام بارگاہ بڈگام میں نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کو بار بار نشانہ بنانا اور ہراساں کرنا نہایت افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرز عمل سے عوام کا اعتماد متاثر اور معاشرتی بے چینی میں اضافہ ہو رہا ہے۔آغا سید حسن نے نوجوانوں کی گرفتاریوں کے سلسلے کو فوری طور پر روکنے، انکے خلاف درج مقدمات کے خاتمے اور کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے )کے تحت کی جانے والی کارروائیوں کو واپس لینے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے محرم الحرام کے دوران نکالے جانے والے تاریخی جلوس عاشورا پر عائد پابندیوں کے مکمل خاتمے کا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا کہ جلوس کو اس کے روایتی راستے آبی گزر سے علمگری بازار، سرینگر تک نکالنے کی اجازت دی جانی چاہیے۔
آغا سید حسن نے کہا کہ عاشورا کے جلوس کی بحالی انکا کا ایک دیرینہ اور جائز مطالبہ ہے اور اس سلسلے میں انتظامیہ کو مثبت اور فراخ دلانہ رویہ اختیار کرنا چاہیے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ محرم الحرام کی آمد کے پیش نظر حکومت اور انتظامیہ عوامی جذبات اور مذہبی آزادیوں کا احترام کرتے ہوئے ایسے اقدامات کرے گی جن سے عقیدت مندوں کو اپنے مذہبی شعائر پرامن اور باوقار انداز میں ادا کرنے کا موقع مل سکے۔







