جنتر منتر کا واقعہ جمہوریت پر سیاہ داغ ہے ، کھر گے
وانگ چک کو زردستی اٹھانا مغرور مودی حکومت کی ہار، کجر یوال
نئی دلی: کانگریس کے صدر ملکار جن کھرگے نے نئی دلی کے جنتر منترپر بھوک ہڑتال پر بیٹھے معروف ماحولیاتی کارکن سونم وانگ چک کو زبردستی اٹھا کر ہسپتال لے جانے کی کارروائی پر مودی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کھرگے نے ایکس پر جاری اپنے ایک بیان میں کہا کہ جنتر منتر پر جو کچھ ہوا وہ جمہوریت اور آئین پر ایک اور سیاہ دھبہ ہے ۔ انہوںنے کہا کہ گنگا کو بچانے کیلئے 111دنوں تک بھوک ہڑتال پر بیٹھے پروفیسر جی ڈی اگروال ہوں، ہریانہ کی اولمپک خاتون پہلوان ہوں، تحریک چلانے والے 750کسان ہوں ، آدیواسی برادری یا پھر پیپر لیک سے متاثرہ طلباء اور انکے اہلخانہ ہوں ، بی جے پی سرکار نے کسی کی آواز نہیں سنی۔ انہوںنے کہا کہ جو بھی اپنے حقوق کیلئے آواز بلند کرتا ہے اسے حکومت ملک دشمن قرار دیتی ہے ، جمہوری احتجاج کو دبانے کا یہ رحجان انتہائی خطرناک ہے ۔
دریں اثنا عام آدمی پارٹی نے بھی وانگ چک کو زبردستی ہسپتال لے جانے کی کارروائی کو مغرور مودی حکومت کی ہار قرار دیا ہے۔ پارٹی کے قومی صدر اروند کجریوال نے ایکس پر لکھا”اتنا غرور ٹھیک نہیں ہے ، وانگچک کو زبردستی اٹھانے کے بجائے حکومت کو ان سے بات کرنی چاہیے تھی ، کاکروچ تحریک کو کچلنے کے بجائے ملک کا نظام تعلیم بہتر بنائو ، وانگ چک کے ساتھ زبردستی کرنا دراصل مودی حکومت کی ہار ہے ۔








