مقبوضہ کشمیر: سیاسی رہنماؤں کا "جبری انتقامی کارروائیوں” کے خلاف انتباہ

سرینگر:بھارت کے غیر قانونی طور پر زیرقبضہ جموں و کشمیر میں سیاسی رہنماؤں نے انتقامی کارروائیوں کے خلاف خبردارکرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کی حمایت کے بغیر جاری جموں وکشمیر کی بدترین صورتحال کے خلاف جنگ نہیں جیتی جا سکتی۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ جموں وکشمیر کےوزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے سرینگر میں ایک بیان میں گزشتہ سال پہلگام واقعے کے بعد مکانات کو منہدم کیے جانے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اس وقت مودی حکومت کواس کارروائی سے روکنے کی کوشش کی تھی۔انہوں نے کہا کہ "مکانات کو منہدم کرنا یا ہزاروں افراد کو گرفتار کرنے سے جموں و کشمیر کی سنگین صورتحال کو بہتر نہیں کیاجاسکتا۔ درحقیقت اس سے صورتحال مزید خراب ہوگی۔انہوں نے ایک پولیس اہلکار کی ہلاکت کے بعد بڑے پیمانے پر گرفتاریوں پرسخت تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ اس طرح کے اقدامات سے بھارت کے خلاف عوام کا غم و غصہ مزید بڑھے گا۔
نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمنٹ آغا روح اللہ مہدی نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہایے کہ ہورے مقبوضہ کشمیر میں 24 گھنٹوں میں 3,000 سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیاہے، جو کہ انتہائی افسوسناک ہے۔انہوں نے پولیس آپریشن کے دوران دو رہائشی مکانات کو منہدم کیے جانے پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ ان میں سے ایک گھر کو پہلے افواج کی طرف سے منہدم کیے جانے کے صرف مہینوں بعد دوبارہ تعمیر کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہاکہ بھارتی سپریم کورٹ نے قانونی عمل کے بغیر املاک مسمار کرنے کی کارروائی کو غیر آئینی قرار دیا ہے۔مقبوصہ کشمیر کی صورتحال میں بہتری کےسرکاری دعوؤں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ایک دن میں 3,000 افراد کی گرفتاری اوردو مکانوں کو دھماکے سے اڑانا دونوں باتیں درست نہیں ہو سکتیں۔پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی نے دو رہائشی مکانات کے انہدام پرڈخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے "اجتماعی سزا” قرار دیا۔انہوں نے پولیس ہیڈ کانسٹیبل کی ہلاکت کی مذمت کی اور کہا کہ ہزاروں افراد کو حراست میں لینا اور مکانات کو منہدم کرنا اجتماعی سزا ہے جس کا جمہوریت میں کوئی تصور نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر بھارتی حکومت کادعوی ہے کہ عسکریت پسندی مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے، تو اسے انتقامی کارروائیوں کی بجائے "مزید انسانی اور قانونی طریقہ” اپنانا چاہیے۔








