ارشد میر
پاکستان آج اپنا 79واں یومِ آزادی منارہا ہے۔ یہ دن ایک بار پھر اس حقیقت کو نمایاں کر رہا ہے کہ آزادی محض ایک جغرافیائی خطے کا نام نہیں، بلکہ ایک نظریے، ایک احساس اور ایک ایسی جدوجہد کا نام ہے جسے نسلیں اپنے خون اور قربانیوں سے زندہ رکھتی ہیں۔ پاکستان میں جب 14 اگست کی رات بارہ بجتے ہی سبز ہلالی پرچم لہراتے ہیں، گلیاں، بازار اور شہر چراغاں سے جگمگا اٹھتے ہیں اور ہر سمت جشن آزادی کی صدائیں بلند ہوتی ہیں تو مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام بھی اس خوشی سے خود کو الگ نہیں سمجھتے۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کی جانب سے پاکستان کے عوام اور حکومت کو 79ویں یوم آزادی پر مبارکباد اور بھارت کے یوم آزادی کو ’’یوم سیاہ‘‘ کے طور پر منانے کا اعلان اسی دیرینہ جذباتی وابستگی کا اظہار ہے۔
یہ محض ایک دن کا ردِعمل نہیں۔ اگست کی 14 اور 15 تاریخیں مقبوضہ کشمیر سے دنیا کو دو بالکل مختلف پیغام دیتی ہیں۔ 14 اگست کو کشمیریوں کے دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتے ہیں جبکہ 15 اگست کو بھارتی جشن آزادی ان کے لیے احتجاج، انکار اور اپنے سیاسی مستقبل کے حق کے مطالبے کا دن بن جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہے؟ آخر وہ خطہ زمین، جو گزشتہ کئی دہائیوں سے بھارتی قبضے میں ہے، بھارت کے قومی ایام پر جشن کے بجائے یوم سیاہ کیوں مناتا ہے اور پاکستان کے قوم ی ایام کو اپنے لیے خوشی کا دن کیوں سمجھتا ہے؟
اس سوال کا جواب کسی وقتی سیاسی مہم یا چند نعروں میں نہیں بلکہ کشمیر کی تاریخ، جغرافیہ، مذہب، تہذیب، معاشرت، اجتماعی نفسیات اور سب سے بڑھ کر اس کے سیاسی مسئلے میں پوشیدہ ہے۔
پاکستان اور کشمیری عوام کے درمیان تعلق کسی سرحدی لکیر یا مواصلاتی رابطے کا محتاج نہیں۔ یہ تعلق ایک ایسے قدرتی دھارے کی مانند ہے جسے چھری سے کاٹ کر دو حصوں میں تقسیم نہیں کیا جاسکتا۔ کشمیری معاشرے کی مذہبی وابستگی، تہذیبی قربت، تاریخی رشتے، جغرافیائی ساخت اور عوامی جذبات کا ایک مضبوط دھارا پاکستان کی طرف جاتا ہے۔ بھارت نے اس رشتے کے درمیان دیواریں ضرور کھڑی کی ہیں، راستے بند کیے ہیں، مواصلاتی رابطے محدود کیے اور سیاسی و عسکری رکاوٹیں پیدا کی ہیں، مگر دلوں کے درمیان قائم تعلق کو ختم نہیں کرسکا۔
اس تعلق کی سب سے بڑی گواہی خود کشمیری عوام کی قربانیاں ہیں۔ شہید ہونے والے کشمیریوں کو پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر سپرد خاک کیا جانا محض ایک علامتی عمل نہیں بلکہ اس وابستگی کا عملی اظہار ہے جسے کئی دہائیوں کے جبر کے باوجود ختم نہیں کیا جاسکا۔
بھارت نے اس تعلق کو توڑنے کے لیے صرف ایک حربہ استعمال نہیں کیا۔ گزشتہ کئی دہائیوں میں فوجی طاقت، سیاسی حربوں، پروپیگنڈے، انتظامی اقدامات اور ترقی کے نام پر مختلف مراعات اور معاشی منصوبوں سمیت ہر ممکن راستہ آزمایا گیا۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ کسی قوم کے سیاسی شعور کو محض سڑکوں، پلوں، عمارتوں یا معاشی پیکجوں سے تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ اگر بنیادی سوال حقِ خودارادیت کا ہو تو معاشی ترقی کے دعوے اس سوال کا متبادل نہیں بن سکتے۔
بھارت نے کشمیریوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ ان کا مستقبل بھارت کے ساتھ وابستہ ہےلیکن اسی دوران ان کے سیاسی حق کو تسلیم کرنے سے انکار کیا۔ دوسری طرف پاکستان نے مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اٹھایا، کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھی اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق مسئلے کے منصفانہ حل کی حمایت کی۔ یہی بنیادی فرق کشمیری عوام کے سیاسی شعور میں دونوں ملکوں کے کردار کو الگ الگ کردیتا ہے۔
ایک طرف پاکستان کا پیغام ہے کہ کشمیری عوام کو اپنے مستقبل کے تعین کا حق ملنا چاہیے تو دوسری طرف بھارت ہے جو اسی مطالبے کو دبانے کے لیے طاقت کا وحشیانہ استعمال کرتا ہے۔ گزشتہ 36 برسوں کے دوران بھارتی فورسز کی لاکھوں کی تعداد میں تعیناتی، قتل و غارتگری، گرفتاریوں، تلاشیوں، پابندیوں اور نگرانی نے کشمیریوں کی زندگی کو اجیرن بنایا تاکہ وہ راہ حریت ترک کرکےاسکے سامنے سرنگوں ہوں اور اسکی عملداری قبول کریں۔ گذشتہ بیسیوں سالوں کی طرح اس باربھی 15 اگست کی نام نہاد اور کھوکھلی تقریب کے انعقاد کے لئے بھارتیوں کو جنگی بنادوں پر مقبوضہ کشمیر کے اہم شہروں اور شاہراہوں پر اضافی چیک پوسٹیں، ناکے اور سخت تلاشی کا نظام قائم کرنا پڑتا ہے۔ سری نگر کے بخشی اور جموں کے مولانا آزاد اسٹیڈیمز کو محاصرے میں لے لیا جاتا ہے، ڈرون نگرانی کی جاتی ہے اور عمارتوں پر ماہر نشانہ باز تعینات کیے جاتے ہیں۔
اس سال تو بلکہ ’’اینٹی فدائین‘‘ کے نام سے فرضی مشق بھی شروع کردی گئی ہے جس نے اس سوال کی اہمیت وشدت کو بڑھا دیا ہے کہ اگر بھارت واقعی کشمیری عوام کو اپنا حصہ سمجھتا ہے تو پھر اپنے ہی دعوے کردہ علاقے میں آزادی کا جشن منانے کے لیے اتنی خوف زدہ سکیورٹی کیوں درکار ہے؟ کیا کسی ملک کا یوم آزادی اس طرح منایا جاتا ہے کہ شہریوں کی نگرانی، تلاشیوں، ناکوں اور فوجی مشقوں کے سائے میں تقریبات منعقد ہوں؟ اور اھر بھارتی فوج آج سے دو سال قبل یہ اعلان کرچکی ہے کہ مقبوضہ علاقہ میں اب کل ملاکر 80 مجاہدین موجود ہیں جو بھارتی فوج پر حملہ کرنے کی صلاحیت و طاقت نہیں رکھتے اور جنگلوں، پہاڑوں میں چھپتے پھر رہے ہیں تو پھر یہ ” اینٹی فدائیں” مشقیں کیوں؟ پھر یہ دس لاکھ فوج بدستور موجود کیوں اور یہ دن رات نہتے عوام کے خلاف ظالمانہ آپریشنز کیوں کررہی ہوتی ہے؟
یہ دراصل بھارت کے دعوے اور زمینی حقیقت کے درمیان موجود بہت بڑی خلیج کی ایک جھلک ہے جو بطور کاص بھارتی عوام کو نظر نہیں آتی۔ وہ اپنی حکومت کے جھوٹے بیانیہ کو تسلیم کرلیتی ہے مگر ان سوالات پہ غور کرکے اپنی حکومت سے پوچھ نہیں کرتی۔
اگر عوام دل سے کسی ریاست کو اپنا سمجھتے ہوں تو ریاست کو ان کے درمیان اتنی بڑی فوج کھڑی کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ لیکن جب ایک قوم کے سیاسی جذبات کو طاقت کے ذریعے قابو میں رکھنے کی کوشش کی جائے تو ہر قومی دن سکیورٹی کا امتحان بن جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ بھارت 14 اگست کو بھی خوف زدہ نظر آتا ہے۔ بھارتی فورسز کو اندیشہ ہوتا ہے کہ کہیں پاکستانی پرچم نہ لہرا دیا جائے، کہیں پاکستان کے حق میں نعرے نہ بلند ہوجائیں اور کہیں 15 اگست کو بھارتی یوم آزادی کے خلاف احتجاج نہ ہوجائے، کہیں سیاہ پرچم نہ لہرائے جائیں۔ چنانچہ پابندیاں پہلے ہی نافذ کردی جاتی ہیں، پکڑ دھکڑ بڑھا دی جاتی ہے اور پورے مقبوضہ خطے کو ایک غیر معمولی سکیورٹی حصار میں تبدیل کردیا جاتا ہے۔ یہ صورتحال خود اس سوال کا جواب بن جاتی ہے کہ بھارت کشمیریوں کے دل جیتنے میں کس حد تک کامیاب ہوا ہے۔
اگر 79 برس کی تاریخ کو دیکھا جائے تو بھارت و پاکستان کے قیام کے بعد سے کشمیر کا مسئلہ کبھی ختم نہیں ہوا۔ بھارت نے کبھی طاقت کے ذریعے، کبھی سیاسی وعدوں اور دھوکہ بازیوں کے ذریعے، کبھی آئینی جارحیت کے ذریعے، کبھی سیاسی رشوتوں کے ذریعہ اور کبھی پروپیگنڈے کے ذریعے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ کشمیر کا مسئلہ حل ہوچکا ہے۔ مگر ہر چند سال بعد خود مقبوضہ کشمیر کی صورتحال یہ ثابت کرتی ہے کہ مسئلہ زندہ ہے، کشمیریوں کا حقِ خودارادیت کا مطالبہ زندہ ہے اور پاکستان کے ساتھ ان کی جذباتی وابستگی بھی زندہ ہے۔
5 اگست 2019 کی آئینی جارحیت بھی اسی حقیقت کو بدل نہیں سکی۔ آئینی تبدیلیاں کی گئیں، سیاسی نظام تبدیل کیا گیا، ریاستی اختیارات کا ڈھانچہ بدلا گیا مگر کسی انتظامی فیصلے سے عوام کے سیاسی جذبات تبدیل نہیں کیے جاسکتے۔ اسی لیے آج بھی پاکستان کا پرچم کشمیریوں کے لیے محض ایک دوسرے ملک کا قومی پرچم نہیں بلکہ ان کے سیاسی خواب، وابستگی اور حقِ خودارادیت کی علامت بن کر سامنے آتا ہے۔
پاکستان میں آج جب یوم آزادی منایا جارہا ہے تو یادگار فتح کے افتتاح کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا یہ اعلان بھی سامنے آیا کہ پاکستان کے پانی کی ایک ایک بوند ریڈ لائن ہے اور کشمیریوں کے لیے پاکستان کا مؤقف دوٹوک ہے۔ یہ پیغام اس وسیع تر قومی احساس کی عکاسی کرتا ہے کہ آزادی کی قدر صرف اپنے لیے نہیں بلکہ ان لوگوں کے لیے بھی کی جانی چاہیے جو آج بھی آزادی کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔
14 اگست ہمیں پاکستان کے قیام کی تاریخ، تحریک پاکستان کے رہنماؤں، لاکھوں مسلمانوں کی جدوجہد، ہجرت اور قربانیوں کی یاد دلاتا ہے۔ اسی طرح کشمیر پر بھارتی غاصبانہ تسلط ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ آزادی حاصل کرلینا کتنا اہم ہوتا ہے۔ ایک آزاد قوم کی ذمہ داری ہے کہ وہ آزادی کی حفاظت کرے اور ان لوگوں کی آواز بنے جو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کے حق سے محروم ہیں۔
کشمیر اور پاکستان کا رشتہ کئی سخت ترین امتحانات سے گزر چکا ہے۔ جنگیں ہوئیں، سرحدیں سخت ہوئیں، رابطے منقطع ہوئے، جیو پولیٹیکل حالات بدلے، طاقت کے عالمی مراکز کا توازن بدلا، ہزاروں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں مگر یہ تعلق ختم نہیں ہوا۔ بھارت مواصلاتی راستے بند کرسکتا ہے مگر جذباتی راستے بند نہیں کرسکتا۔ وہ کنٹرول لائن پر آہنی دیوار کھڑی کرسکتا ہے مگر دلوں کے درمیان دیوار نہیں بنا سکتا۔ وہ فوج تعینات کرسکتا ہے مگر کسی قوم کے اجتماعی شعور پر پہرہ نہیں بٹھا سکتا۔
اسی لیے 14 اور 15 اگست کشمیر کے لیے محض کیلنڈر کی دو تاریخیں نہیں۔ یہ دو مختلف سیاسی تصورات کی علامت ہیں۔ ایک طرف آزادی، حقِ خودارادیت اور اپنے مستقبل کے انتخاب کا تصور ہے تو دوسری طرف قبضے، جبر اور مسلط شدہ سیاسی فیصلوں کے خلاف انکار کا اظہار۔
کشمیریوں کے پاس پاکستان کے یوم آزادی کو یوم جشن اور بھارت کے یوم آزادی کو یوم سیاہ کے طور پر منانے کی ہزاروں وجوہات ہیں۔ پاکستان ان کے حقِ خودارادیت کی وکالت کرتا ہے جبکہ بھارت اسی حق کے مطالبے کو طاقت سے دبانے کی کوشش کرتا ہے۔ پاکستان کشمیریوں کی آواز عالمی فورمز تک پہنچاتاہے جبکہ بھارت اسی آواز کو خاموش کرنے کے لیے گرفتاریوں، پابندیوں اور سخت قوانین کا سہارا لیتا ہے۔
یہ تعلق کسی حکومتی بیان یا ایک دن کی تقریبات کا محتاج نہیں۔ یہ دہائیوں کے امتحان سے گزر کر اپنی جگہ بنا چکا ہے۔ بھارت نے اسے ختم کرنے کے لیے بہت کچھ آزمایا مگر کشمیریوں کے جذبات کو زیر یا فتح نہیں کرپایا۔ ایک دن ایسا ضرور آئے گا جب بند راستے کھلیں گے، دیواریں گریں گی، رابطے بحال ہوں گے اور پاکستان و کشمیر کے اس دیرینہ تعلق کی نوعیت بھی دنیا کے سامنے ایک نئی عملی حقیقت کے طور پر ظاہر ہوگی۔
تب 14 اگست اور 15 اگست کے درمیان موجود یہ فرق بھی اپنی تاریخی معنویت کے ساتھ دنیا کو ایک واضح پیغام دے رہا ہوگا کہ قوموں کو طاقت سے خاموش تو کیا جاسکتا ہے، ان کے دلوں سے ان کا خوابِ آزادی نہیں چھینا جاسکتا۔
کشمیریوں کے دلوں میں پاکستان کی محبت بھی ایسا ہی ایک خواب ہے،ایک ایسا خواب جس نے دہائیوں کے جبر، پابندیوں، پروپیگنڈے اور طاقت کے باوجود خود کو زندہ رکھا ہے۔ پاکستان کا سبز ہلالی پرچم اسی لیے کشمیریوں کے لیے محض کپڑے کا ایک ٹکڑا نہیں بلکہ ایک امید، ایک وابستگی اور ایک ایسے مستقبل کی علامت ہے جس میں ان کے فیصلے کا اختیار خود ان کے ہاتھ میں ہوگا۔ یہی وہ جذبہ ہے جو 14 اگست کو کشمیر یوں کے قلوب میں جشن پیدا کرتا ہے اور 15 اگست کو انہی قلوب میں احتجاج، نفرت، بے زاری اور ماتم کی صدا بلند کرتا ہے۔








