بھارت :مودی کا مضبوطی اور کامیابی کا جھوٹا بیانیہ بے نقاب ہوچکاہے: تجزیہ کار
سرینگر :سیاسی تجزیہ کاروں نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے مضبوطی اور کامیابی کے جھوٹے بیانیے کو مسترد کرتے ہوئے اسے من گھڑت قرار دیا ہے جوبین الاقوامی درجہ بندی کے اعداد و شمار اور بھارت اور مقبوضہ جموں و کشمیر کے زمینی حقائق کے بوجھ تلے دم توڑ جاتا ہے۔
تجزیہ کاروں نے بھارتی وزیر اعظم کے دعووں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ مودی خود کو ایک مضبوط رہنما ثابت کرنے کے لیے جھوٹے بیانیے پھیلا رہاہے تاکہ فوجی، معاشی اور جمہوری محاذ سمیت تمام شعبوں میں اپنی ناقابلِ تردید ناکامیوں کو چھپایا جا سکے۔تجزیہ کاروں نے کہا کہ بھارتی افواج کے بیرونِ ملک سرزمین پرحملہ کرنے کی صلاحیت کے دعوے محض غیر ذمہ دارانہ اورکھوکھلی دھمکیاں ہیں۔انہوں نے اپریل 2025 کے پہلگام واقعے اور حالیہ چھوٹی چھوٹی کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ بھارتی افواج کے درمیان رابطہ کاری کے فقدان کا ثبوت ہیں جبکہ کشمیری عوام مقبوضہ علاقےپر بھارت کے غیر قانونی قبضے کے خلاف مزاحمت جاری رکھے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں 2020 کے بعد دہشت گردی کے واقعات میں 83 فیصد کمی کے بھارتی دعوے سے 2,000 سے زائد کشمیریوںکی بلاجواز گرفتاریوں، گھروں کی مسماری، کتابوں پر پابندی، صرف 2025 میں 65 مرتبہ انٹرنیٹ بندشوں اور فریڈم ہاو¿س کی جانب سے علاقے کو 100 میں سے صرف 38 پوائنٹس کی درجہ بندی کو چھپایا نہیں جاسکتا۔تجزیہ کاروں نے کہا کہ متنازعہ جموں و کشمیر سے لے کر بھارت کے شمال مشرق تک امن کا دعویٰ منی پور میں جاری خونریزی سے متصادم ہے جہاں مئی 2023 سے اب تک 306 افراد ہلاک اور 49 لاپتا ہو چکے ہیں جبکہ 24,000 افراد اب بھی امدادی کیمپوں میں موجود ہیں۔ تجزیہ کاروں نے 2026 کے دوران پنجاب کے مختلف اضلاع میں خالصتان نواز گروہوں سے منسوب دھماکوں کے واقعات اور ماو¿ نواز اور نکسل تحریک کی طرف بھی اشارہ کیا۔معیشت کے حوالے سے تجزیہ کاروں نے سابق سیکریٹری خزانہ س±بھاش چندر گرگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں شرحِ نموبرائے نام تقریباً 2.6 سے 2.8 فیصد کے قریب بنتی ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت کی بین الاقوامی ساکھ کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ تجزیہ کاروں نے کینیڈا کی جانب سے 2025 میں بھارت میں قائم بشنوئی گینگ کو دہشت گرد تنظیم قرار دیے جانے اور 2026 میں امریکی حکام کی جانب سے بھارت سے منسلک بین الاقوامی جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے خاتمے کا حوالہ دیا۔ تجزیہ کاروں نے کہا کہ بھارت 2026 کی آزادی صحافت کی عالمی درجہ بندی میں 180 ممالک میں 157ویں نمبر پر آ گیا ہے، جبکہ وی ڈیم (V-Dem) کے مطابق لبرل ڈیموکریسی انڈیکس میں اسے انتخابی آمریت قرار دیتے ہوئے 105ویں نمبر پر رکھا گیا ہے اور انسانی آزادی کے انڈیکس میں 165 ممالک میں اس کا نمبر 110واں ہے۔اقلیتوں کا استحصال بھی بلا روک ٹوک جاری ہے۔ 2025 میں مذہبی اقلیتوں کو نشانہ بنانے والے نفرت انگیز تقاریر کے 1,318 واقعات ریکارڈ کیے گئے جو 2023 کے مقابلے میں 97 فیصد زیادہ ہے، جبکہ غیر ریاستی عناصر کے ہاتھوں نفرت پر مبنی جرائم میں 27 مسلمان قتل کیے گئے۔






