بھارت میں بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے
نئی دہلی: بھارت کو بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، مذہبی تعصب، ذات پات کی بنیاد پر ظلم وبربریت اور پولیس کے مظالم پر تنقید کا سامنا ہے۔
جھارکھنڈ میں بی جے پی کے ایک بوتھ ایجنٹ نے تقریباً 200 ایسے فارم جمع کرائے جن میں مسلمان ووٹرز کے نام ووٹر فہرست سے خارج کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ اس واقعے نے اقلیتوں اور پسماندہ طبقات کے تحفظ کے حوالے سے بڑھتے ہوئے خدشات کو اجاگر کیا ہے۔
دریں اثناءاتر پردیش کے شہر سہارنپور میں ایک مسجدکو مسمارکرنے کے لئے قانونی طریقہ کار کی خلاف ورزی پر شدید تنقید کی جارہی ہے۔منی پور اور بہار میں مظاہرین کے خلاف پولیس کی بربریت کے واقعات ایک معمول بن چکے ہیں، جبکہ پنجاب میں پولیس حراست کے دوران تشد کا نشانہ بننے والے ایک سکھ نوجوان کی صحت بگڑنے کے بعد اسے ہسپتال میں داخل کرایا گیا۔تامل ناڈو اور دہلی میں دلتوں کے خلاف ذات پات کی بنیاد پر امتیازی سلوک کے متعدد واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں تذلیل، دھمکیوں اور بدسلوکی کے واقعات شامل ہیں۔ادھرسوشل میڈیاپر سرگرم ایک ہندو انتہا پسندکے خلاف تشدد اور مسلمانوں کے سماجی و معاشی بائیکاٹ کی ترغیب دینے والے بیانات پر شکایات درج کرائی گئی ہیں۔اسی دوران کرناٹک میں ڈاکٹر بی آر امبیدکر،گوتم بدھ اور بسونّا کے خلاف توہین آمیز بیانات پر احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے۔







