بھارت

اتراکھنڈ حکومت نے مزید5 مدارس سیل کر دیے، مجموعی تعداد 20ہوگئی

نئی دہلی:بھارتی ریاست اتراکھنڈکی حکومت نے دہرادون اور ہلدوانی میں مزید 5مدارس سیل کر دیے، جس کے بعد متاثر ہ مدارس کی مجموعی تعداد 20 ہو گئی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ریاستی حکام نے دہرادون کی آزاد کالونی میں مدرسہ جامعہ سلام الاسلامیہ، ہلدوانی میں مدرسہ جامعہ نوریہ برکات امینہ اور اندرا نگر میں ایک اور مدرسے کو "غیر تسلیم شدہ” قرار دے کر بند کر دیا ہے۔ مدرسہ دارارقم اور مدرسہ دارالعلوم رحیمیہ کو بھی زبردستی بندکردیاگیاہے۔اقلیتی بہبود کے خصوصی سکریٹری ڈاکٹر پراگ مادھوکر ڈھاکٹے نے میڈیاکوبتایا ہےکہ اب تک 17 مدارس کوسیل کیاگیا ہے جبکہ 3 دیگرمدارس کو انتظامیہ نے خود بند کرنے کا اعلان کیاہے۔مدارس کے خلاف یہ کارروائی جولائی میں ریاستی حکومت کی جانب سے اتراکھنڈ مدرسہ بورڈ کو ختم کرنے اور اس کی جگہ اتراکھنڈ اسٹیٹ اتھارٹی فار مائنارٹی ایجوکیشن بنانے کے چند ہفتوں بعد کی گئی ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ تمام اداروں کو اب نئے اقلیتی تعلیم ایکٹ کے تحت نئی شناخت حاصل کرنی ہوگی۔ لیکن مدارس کے منتظمین کا کہنا ہے کہ انہیں دستاویزات مکمل کرنے کا وقت دیا گیا تھا۔ ایک منتظم نے مقامی میڈیا کو بتایا، "ہم نے 50 ہزار کی فیس بھی جمع کرا دی تھی اور دستاویزات مکمل کی جارہی تھیں لیکن مقررہ تاریخ سے پہلے ہی مدارس کے خلاف کارروائی کر دی گئی۔”
اس اقدام کے خلاف سوشل میڈیا پر شدید غم و غصے کااظہارکیاجارہا ہے۔ ایک صارف نے ایکس پر لکھا، "مدارس تعلیم اور روشنی کی جگہیں ہیں۔ انہوں نے اسے "مسلمانوں کے خلاف انتقامی کارروائی” قرار دیا۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button