مقبوضہ جموں و کشمیر

مقبوضہ کشمیر : میڈیکل انٹرنز کی دوسرے روز بھی بھوک ہڑتال جاری

سرینگر:غیر قانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس انٹرنز نے ماہانہ وظیفے میں اضافے کے مطالبے پر اپنی بھوک ہڑتال دوسرے روز بھی جاری رکھی۔
احتجاج کرنے والے انٹرنز گزشتہ ایک ہفتے سے زائد عرصے سے ماہانہ وظیفہ 12ہزار300روپے سے بڑھا کر 30,000 روپے کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک قابض انتظامیہ اس سلسلے میں باضابطہ تحریری حکم نامہ جاری نہیں کرتی، احتجاج جاری رکھا جائے گا۔مقبوضہ علاقے کے 10سرکاری میڈیکل کالجوں اور دو ڈینٹل کالجوں کے انٹرنز احتجاج میں شریک ہیں، جبکہ وظیفے پر نظرثانی میں مسلسل تاخیر کے باعث طبی تربیت حاصل کرنے والے طلبہ میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔انٹرنز نے حکومت کی جانب سے ماضی میں کی گئی سفارش پر عملدرآمد نہ ہونے کی بھی نشاندہی کی۔ جون 2023 میں جاری حکومتی حکم نامے میں مقرر کیے گئے 12ہزار300 روپے کے وظیفے کو بڑھا کر 25ہزارروپے کرنے کی تجویز دی گئی تھی، تاہم اس پر تاحال مطلوبہ عملدرآمد نہیں ہو سکا۔احتجاج میں حالیہ شدت انٹرنز کے نمائندوں اور وزیر صحت کے درمیان ملاقات کے بعد آئی ہے۔میڈیکل انٹرنز کا کہنا ہے کہ ملاقات کے دوران کرائی گئی یقین دہانیاں ان کے مطالبے کو پورا کرنے کے لیے کافی نہیں اور انہوں نے واضح کیا کہ صرف تحریری حکم نامہ ہی انہیں قابل قبول ہوگا۔انٹرنز نے منگل کے روز بھی بھوک ہڑتال جاری رکھی ۔انکا کہناتھا کہ جب تک قابض حکام وظیفے میں اضافے کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری نہیں کرتے، وہ اپنا احتجاج جاری رکھیںگے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button