جموں : پولیس حراست میں نوجوان کی موت، اہلخانہ کا شدید احتجاج، تحقیقات کا مطالبہ
جموں: بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں جموں ضلع میں ایک نوجوان کی پولیس چوکی میں پوچھ گچھ کے دوران موت واقع ہو گئی۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق رکھ چکروئی کے رہائشی اتم چند کو ایک شکایت کے سلسلے میں بارڈر پولیس چوکی (بی پی پی) میں طلب گیا تھا۔ پوچھ گچھ کے دوران وہ اچانک بے ہوش ہو گیا ، اسے سب ڈسٹرکٹ ہسپتال آر ایس پورہ لے جایا گیاجہاں سے اسے گورنمنٹ میڈیکل کالج (جی ایم سی) جموں ریفر کیا گیا، جہاں علاج کے دوران اس کی موت ہوگئی۔
نوجوان کی موت کی خبر پھیلتے ہی اسکے اہلخانہ، رشتہ داروں اور مقامی باشندوں نے چکروئی چوک پر دھرنا دیا اور واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے پولیس چوکی کے انچارج اور دیگر اہلکاروں کو معطل کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔
انہوں نے متوفی کے لواحقین کے لیے سرکاری نوکری اور سوگوار خاندان کے لیے ایک کروڑ روپے کے معاوضے کا بھی مطالبہ کیا۔ایس پی ہیڈ کوارٹر انا سنہا نے کہا کہ نوجوان کی موت کی مجسٹریل تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے۔
دریں اثنا ضلع بڈگام کے علاقے ماگا م چچلورہ میں ایک 47 سالہ بس ڈرائیور مشتاق احمد شیخ آج اپنی گاڑی کے اندر مردہ پایا گیا۔KMS-





