امریکی سینیٹرز کا ٹرمپ انتظامیہ کو خط ،3بھارتی سائبر کمپنیوں کو بلیک لسٹ کرنے کا مطالبہ
بھارتی کمپنیوں نے ہزاروں امریکیوں کا ڈیٹا ہیک کر کے چوری کیا ، محکمہ تجارت سخت کارروائی کرے
واشنگٹن: امریکی سینیٹرز کے ایک بائی پارٹیژن گروپ نے ٹرمپ انتظامیہ سے امریکی شہریوں اور کمپنیوں کا ڈیٹا ہیک اور چوری کرنے پر بھارت میں قائم تین کمپنیوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ڈیموکریٹک سینیٹرز نے ٹرمپ انتظامیہ کے نام خط میں کہاہے کہ ان بھارتی کمپنیوں نے ہزاروں امریکی شہریوں، کاروباری اداروں اور قانونی نمائندوں کے ڈیٹا کو ہیک کرکے چوری کیا۔ڈیموکریٹک سینیٹرز رون وائیڈن اور شیلڈن وائٹ ہائوس اور ریپبلکن سینیٹر پینٹ ہیریگن نے امریکی وزیر تجارت ہاورڈ لٹنک کو خط لکھ کربھارت میں قائم ”بیل ٹروکس لمیٹڈ، سن کسڈ آرگینک پرائیویٹ لمیٹڈ اور سائبر روٹ لمیٹڈ” کے خلاف سخت اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔سینیٹرز کے مطابق بھارت میں قائم بعض سائبر گروپس گزشتہ 15برس سے امریکی شہریوں، کاروباری اداروں اور ان کی نمائندگی کرنے والے وکلا کے خلاف جاسوسی میں بھی ملوث رہے ہیں۔خط میں خبر رساں ادارے ”رائٹرز” اور ”دی سٹیزن لیب”کی تحقیقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مذکورہ بھارتی کمپنیوں سے منسلک گروپس نے نجی ایکویٹی فرموں، دوا ساز کمپنیوں اور بڑی امریکی لا فرموں سے وابستہ ایک ہزار سے زائد وکلا کو مبینہ طور پر ہیکنگ کا نشانہ بنایاہے۔سینیٹرز کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد جاری قانونی مقدمات پر اثر انداز ہونا اور ان کے نتائج کو متاثر کرنا تھا۔امریکی سینیٹرز نے خط میں یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ بھارت سے کام کرنے والے سائبر گروپس اور ان کے مبینہ ساتھیوں نے اپنی سرگرمیوں پر ہونے والی میڈیا رپورٹنگ کو روکنے کے لیے قانونی کارروائیوں کا سہارا لیا۔

خط میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ بھارتی کمپنیوں نے”گوگل، میٹا، مائیکروسافٹ” اور”دی نیویارکر” سمیت بعض امریکی ٹیکنالوجی اور میڈیا اداروں کے خلاف مقدمات بھی دائر کیے ہیں۔ سینیٹرز کے مطابق ان اقدامات کا مقصد مبینہ ہیکنگ سرگرمیوں سے متعلق معلومات اور تنقید کو محدود کرنا تھا۔امریکی سینیٹرز نے محکمہ تجارت کے”بیورو آف انڈسٹری اینڈ سکیورٹی”سے تینوں بھارتی کمپنیوں کو امریکہ کی”اینٹیٹی لسٹ ”میں شامل کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے ان کمپنیوں کی امریکی سافٹ ویئر، کلائوڈ انفراسٹرکچر اور سائبر سکیورٹی ٹیکنالوجیز تک رسائی محدود یا ختم کی جا سکے گی۔
سینیٹرز نے موقف اختیار کیا کہ مبینہ سائبر حملوں کے خلاف کارروائی امریکی شہریوں، کاروباری اداروں اور میڈیا کی آزادی کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔








