بھارت

پہلگام واقعہ :ملائیشین وزیراعظم نے پاکستان پر بھارتی الزام مسترد کردیا

نئی دہلی: ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم نے کہا ہے کہ ملائیشین انٹیلی جنس اداروں کے پاس ایسی کوئی مصدقہ معلومات یا رپورٹ نہیں ہیں جس سے یہ ثابت ہو کہ پاکستان بھارت میں کسی ریاستی دہشتگردی کی کارروائی میں ملوث ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق انور ابراہیم نے یہ بات بھارت میں برکس اجلاس میں شرکت کے دوران بھارتی میڈیا کی طرف سے پہلگام واقعے کے تناظر میں پاکستان پر ریاستی دہشتگردی کے الزام سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہی۔
انہوں نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ بحیثیت وزیراعظم ان معلومات اور حقائق کی بنیاد پر بات کر سکتے ہیں جو ریاستی اداروں کی جانب سے فراہم کیے گئے ہوں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ملائیشیا کے انٹیلی جنس اداروں نے ایسی کوئی رپورٹ نہیں دی جس میں پاکستان کے ریاستی دہشتگردی میں ملوث ہونے کی تصدیق کی گئی ہو۔
ملائیشیا کے وزیرِ اعظم نے بھارت کے معروف نیوز چینل ” این ڈی ٹی وی ”کے اینکر کی جانب سے پہلگام حملے پر پاکستان کو ہدف بنانے والے بیانیے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی نتیجے پر پہنچنے کے لیے غیر جانبدار اور معتبر انٹیلی جنس کی ضرورت ہوتی ہے۔ انور ابراہیم نے غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کو بھی کھل کر "ریاستی دہشت گردی” قرار دیا، لیکن پاکستان کے خلاف اسی اصطلاح کو استعمال کرنے کے بھارتی مطالبے کو یکسر مسترد کر دیا۔
ملائیشین وزیراعظم کا یہ بیان اس تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل ہیں کیونکہ بھارت تواتر کیساتھ پاکستان کو بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر اور دیگر مقامات پر ہونے والے حملوں میں ملوث کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے ،اسلام آباد ایسے الزامات کو نہ صرف سختی سے مسترد بلکہ حملوں کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات کی پیشکش بھی کرتا رہا ہے۔اپریل 2025 میں جب پہلگام کا واقعہ رونما ہوا تو پاکستان نے اس وقت بھی، شفاف، قابلِ اعتماد اور غیر جانبدارانہ تحقیقات میں تعاون کی پیشکش کی تھی۔
ملائیشیا نے اپریل2025 میں بھی پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں کردار ادا کرنے کی پیشکش کی تھی تاہم بھارت اپنے بے بنیاد موقف پر ڈٹا رہا اور پاکستان پر رات کی تاریکی میں بزدلانہ حملہ کر کے خواتین اور بچوں سمیت سمیت کئی عام شہری شہید کردیے۔ملائیشین وزیراعظم کے اس بیان سے یہ بات مزید واضح ہو گئی ہے کسی ریاست پر بغیر کسی ٹھوس شواہد اور ثبوت کے دہشت کے الزامات کوئی اہمیت نہیں رکھتے اور نہ ہی عالمی برادری کے آگے ان الزامات کی کوئی وقعت اوراہمیت ہوتی ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button