مقبوضہ جموں وکشمیر میں اسمبلی کا پہلا روز ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے پر ہنگامہ آرائی کی نذر
سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیںقانون ساز اسمبلی کے اجلاس کا پہلا روز آج اس وقت ہنگامہ آرائی کی نذر ہوگیا جب حکمران نیشنل کانفرنس کے ارکان نے ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کے حق میں نعرے لگائے جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ارکان نے اس کے خلاف احتجاج کیا۔
صبح 10 بجے اجلاس شروع ہونے کے فورا بعد نیشنل کانفرنس کے ارکان نے جن میں علی محمد ساگر بھی شامل تھے، مقبوضہ جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت بحال کرنے کے مطالبے کے حق میں نعرے لگائے۔ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا-مارکسسٹ (CPI-M) کے رکن اسمبلی محمد یوسف تاریگامی نے کہا کہ منتخب حکومت کو اقتدار سنبھالے دو برس گزر چکے ہیں لیکن ریاستی حیثیت بحال نہیں کی گئی۔اس مطالبے پر بی جے پی کے ارکان نے احتجاج شروع کردیا، جو پلے کارڈز اٹھا کر کھڑے ہوگئے اور بھارت ماتا کی جے سمیت مختلف نعرے لگائے۔ اسپیکر عبدالرحیم راتھر نے اپوزیشن ارکان سے بار بار کہا کہ انہیں جب موقع دیا جائے تو اپنے مسائل اٹھائیں اور ارکان پر زور دیا کہ وہ عوام سے متعلق معاملات پر بحث کے لیے اجلاس کو بروئے کار لائیں۔نائب وزیر اعلی سریندر چودھری نے بی جے پی ارکان کے طرزِ عمل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ عوامی مسائل اٹھانا چاہتے ہیں تو انہیں حکومت سے سوالات کرنے چاہئیں، جن کے جوابات متعلقہ وزرا ء دیں گے۔ ہنگامہ آرائی حکمران نیشنل کانفرنس کی طرف سے ریاستی حیثیت کی بحالی کے مسلسل مطالبے سے شروع ہوئی ۔بھارت نے اگست 2019میں جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت ختم کرکے اسے مرکز کے زیر انتظام دو علاقوںمیں تقسیم کردیا تھا۔نیشنل کانفرنس کی زیر قیادت حکومت متعدد مرتبہ ریاستی حیثیت کی بحالی کا مطالبہ کرچکی ہے، جبکہ 2019کی تبدیلیوں کے بعد یہ مطالبہ علاقے میں ایک اہم سیاسی مسئلہ بنا ہوا ہے۔اسمبلی کا اجلاس کل تک ملتوی کردیا گیا۔ توقع ہے کہ اجلاس دوبارہ شروع ہونے پر ریاستی حیثیت کی بحالی کے معاملے پر مزید بحث ہوگی۔








