مقبوضہ کشمیر میں 40 ہزار سے زائد سرکاری آسامیاں خالی ہونے کا انکشاف
مقامی ملازمین کو مستقل کرنے کے بجائے بھارت سے بھرتی کا خدشہ
سرینگر: غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں 40,672 خالی سرکاری آسامیوں کے انکشاف نے پہلے سے کنٹریکٹ پر کام کرنے والے مقامی ملازمین میں تشویش پیدا کر دی ہے، جنہیں خدشہ ہے کہ ان آسامیوں پر مقامی کارکنوں کو مستقل کرنے کے بجائے باہر کے افراد کو بھرتی کیا جا سکتا ہے۔
مقبوضہ جموں و کشمیر انتظامیہ نے پیر کو قانون ساز اسمبلی کو بتایا کہ مختلف محکموں میں براہ راست بھرتی کے کوٹے کے تحت 40,672 سرکاری آسامیاں خالی ہیں، جن میں 3,318 گزیٹڈ، 24,427 نان گزیٹڈ اور 12,927 ملٹی ٹاسکنگ اسٹاف (ایم ٹی ایس)کی آسامیاں شامل ہیں۔
سب سے زیادہ خالی آسامیاں محکمہ صحت و طبی تعلیم میں ہیں، جہاں مجموعی طور پر 12,797 عہدے خالی پڑے ہیں۔ ان میں 2,125 گزیٹڈ، 8,064 نان گزیٹڈ اور 2,608 ایم ٹی ایس کی آسامیاں شامل ہیں۔ ہیلتھ ملازمین کا مطالبہ ہے کہ ان خالی آسامیوں پر پہلے سے محکمہ صحت میں کنٹریکٹ کی بنیاد پر خدمات انجام دینے والے مقامی کارکنوں کو مستقل کیا جائے کیونکہ وہ طویل عرصے سے اپنی خدمات کی مستقلی، ملازمت کے تحفظ اور دیگر بنیادی مراعات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
ملازمین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ خالی سرکاری آسامیوں کو جموں و کشمیر سے باہر کے افراد کی بھرتی کے ذریعے پر کیا جا سکتا ہے، جس سے مقامی نوجوانوں کے روزگار کے مواقع مزید محدود ہوں گے۔ یہ خدشات علاقے میں سرکاری ملازمتوں کے مواقع کی آوٹ سورسنگ اور باہر سے بھرتیوں کے حوالے سے جاری وسیع تر بحث کے دوران سامنے آئے ہیں۔
یاد رہے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی رہنما التجا مفتی بھی سرکاری ملازمتوں کی آوٹ سورسنگ پر سوال اٹھا چکی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات مقامی نوجوانوں کو روزگار کے مواقع سے محروم کر رہے ہیں۔
ہیلتھ مشن کے ملازمین نے انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ وہ نئی بھرتیوں یا آوٹ سورسنگ سے پہلے ان کی طویل عرصے سے زیر التوا مستقلی کا مسئلہ حل کرے اور محکمہ صحت میں برسوں سے خدمات انجام دینے والے تجربہ کار مقامی کارکنوں کو ترجیح دی جائے۔






