بھارت:بہار میں ہندو انتہاپسندوں نے نوجوان جوڑے کو ہراساں کیا
پٹنہ :بھارتی ریاست بہار میں ہندو انتہاپسندوں نے ایک نوجوان جوڑے کو ہراساں کیا اورلڑکی کے ساتھ بدتمیزی کی ۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ بہار کے ضلع جموئی میں ہندو انتہاپسند نوجوان جوڑے کو روک کر ہراساں کر رہے ہیں۔ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ہندو انتہاپسند رات کے وقت جوڑے کو گھیر رہے ہیں، ایک شخص نوجوان کا کالر پکڑ کر اسے خاتون سے دور کھینچ رہا ہے۔ جب خاتون وہاں سے بھاگنے کی کوشش کرتی ہے تو ایک نقاب پوش شخص اس کا پیچھا کرتا ہے، اسے پیچھے سے پکڑ لیتا ہے اور اسے اپنے ساتھ لے جانے کی کوشش کرتا ہے۔
لڑکی کو چیختے اور خود کو چھڑانے کی کوشش کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے ۔ لڑکی کا ساتھی خود کو چھڑا کر اس کی مدد کے لیے دوڑتا ہے۔ دونوں فرار ہونے کے لیے اپنی موٹر سائیکل کی طرف بھاگتے ہیں، تاہم حملہ آور ان کا پیچھا کرتے ہیں اور لڑکی کا بازو پکڑ لیتے ہیں، جبکہ نوجوان جوڑاانہیں چھوڑ دینے کی التجا کرتاہے۔جموئی کے حکام نے بتایا کہ یہ واقعہ 19 ستمبر کو جموئی صدر تھانے کی حدود میں پیش آیا۔ ویڈیوز آن لائن سامنے آنے کے بعد پولیس نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ اس واقعے نے بھارت میں خود ساختہ محافظ گرو پوں کی جانب سے عوامی مقامات پر لوگوں کو ہراساں کرنے اور اخلاقی نگرانی کے حوالے سے تشویش پیدا کر دی ہے۔
کانگریس رہنما راہول گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہاکہ ایک نوجوان لڑکی ہاتھ جوڑ کر چھوڑ دینے کی التجا کرتی رہی جبکہ غنڈے اسے چھونے اور گھسیٹ کر لے جانے کی کوشش کرتے رہے۔ ان افراد کو اس طرح برتاو¿ کرنے کا حق کس نے دیا؟یہ ثقافت نہیں پدر شاہی ہے۔ یہ وہ سوچ ہے کہ کوئی بھی مرد ایک لڑکی کے جسم، اس کی نقل و حرکت اور اس کے فیصلوں کی نگرانی کر سکتا ہے۔ انہوں نے مجرموں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ شام 7 بجے کے بعدکسی سڑک پر ایک لڑکی محفوظ کیوں نہیں ہے۔







