بھارت :منی پور میں مسلح افراد نے دو ناگا شہریوں کو گولی مار کر قتل کردیا
امپھال: بھارت کی شورش زدہ ریاست منی پور میں تشدد کاسلسلہ بدستور جاری ہے اورتازہ ترین واقعے میں مشتبہ مسلح افراد نے دو ناگا شہریوں کو گولی مار کر قتل کردیا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مسلح افراد نے ہفتے کے روز ضلع سینی پتی کے علاقے کالین جنگ میں دو ناگا شہریوں کو قتل کردیا۔اطلاعات کے مطابق دونوں مقتولین کی لاشیں تافو ناگا گاوں کے قریب سے ملیں، جبکہ جائے وقوعہ پر خون کے نشانات بھی موجود تھے۔ مقامی ذرائع نے بتایاکہ مقتولین کا تعلق ما ئوناگا برادری سے تھا تاہم ابھی ان کی شناخت کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔یہ واقعہ پڑوسی ضلع کامجونگ کے علاقے پیلونگ میں ایک روز قبل چار تانگ کھل ناگا شہریوں کے مبینہ قتل کے بعد پیش آیا۔
پیلونگ بھارت اور میانمار کی سرحد کے قریب واقع ہے۔حالیہ ہلاکتیں اس وقت ہوئیں جب یونائیٹڈ ناگا کونسل (یو این سی)نے پیلونگ میں ناگا شہریوں کی ہلاکت کے بعد عائدکی گئی اقتصادی ناکہ بندی ختم کردی۔ یو این سی نے ہلاکتوں کے سلسلے میں انصاف اور جواب دہی کا مطالبہ کیا تھا۔منی پور میں دیگر برادریوں کے علاوہ بنیادی طور پر میتی اور ناگا آباد ہیں۔ مختلف مسلح اور سیاسی گروہوں نے منی پور اور اس سے ملحقہ ناگا اکثریتی علاقوں کی سیاسی حیثیت اور علاقائی انتظام سے متعلق مختلف مطالبات پیش کیے ہیں۔
میتی مسلح گروہوں نے جن میں یونائیٹڈ نیشنل لبریشن فرنٹ(یو این ایل ایف)، پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے)اور کنگلیپک کمیونسٹ پارٹی (کے سی پی)شامل ہیں، تاریخی طور پر منی پور کی آزادی یا خودمختاری کی حمایت کی ہے اور ریاست کو تقسیم کرنے یا اس کی علاقائی حدود میں تبدیلی کی تجاویز کی مخالفت کی ہے۔ناگا قوم پرست گروہ جن میں نیشنل سوشلسٹ کونسل آف ناگالینڈ (این ایس سی این)شامل ہے، زیادہ سے زیادہ سیاسی اختیارات کا مطالبہ کررہے ہیں جس میں متحدہ ناگا وطن کے تصور اور بھارت سے مکمل آزادی کا مطالبہ شامل ہے۔
منی پور میں مئی2023میں ہندو اکثریتی میتی اور عیسائی اکثریتی کوکی برادریوں کے درمیان ہونے والے نسلی تشدد کے بعد سے بدستور کشیدگی پائی جاتی ہے جس کے نتیجے میں 260سے زائد افراد ہلاک ہوئے جن میں اکثریت عیسائیوں کی ہے۔ اس کے بعد سے دونوں برادریاں بڑی حد تک ایک دوسرے سے الگ تھلگ ہو کر رہ رہی ہیں، جبکہ ہزاروں افراد بے گھرہوچکے ہیں۔




