بھارت

بھارت کی نام نہاد جمہوریت،مودی حکومت کے زیر اثر بھارتی الیکشن کمیشن عالمی تنقید کی زد میں

نئی دہلی:مودی حکومت کے کٹھ پتلی بھارتی الیکشن کمیشن کی ہیرا پھیری نے بھارت میں نام نہاد جمہوریت کے دعوو ں کی پول کھول دی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ایک برطانوی جریدہ کاکہنا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کیخلاف بے ضابطگیوں کی رپورٹس کے بعد بھارتی الیکشن کمیشن کو شدید عدم اعتماد کا سامنا ہے۔بھارتی اپوزیشن کے مطابق الیکشن کمیشن بی جے پی کو فائدہ پہنچانے کیلئے ’ایس آئی آر‘ کے ذریعے انتخابی فہرستوں سے ووٹرزکے نام خارج کررہا ہے۔عالمی خبرساں ادارے رائٹرز کے مطابق کاکروچ جنتا پارٹی نے 48 گھنٹوں میں چیف الیکشن کمشنرکا استعفیٰ موصول نہ ہونے پر احتجاج کا اعلان کیا۔
واضح رہے کہ بھارتی الیکشن کمیشن نے مختلف بہانوں سے اقلیتی برادری سے تعل رکھنے والے کروڑں ووٹروں باالخصوص مسلمانوں اوردلتوں کے نام انتخابی فہرستوں سے خارج کردیے ہیں ، تاکہ بی جے پی کو انتخابات میں کامیابی دلائی جاسکے ۔ اس کھلی دھاندلی کے خلاف اگرچہ حزب اختلاف کی جماعتوں نے بارباراعتراض اٹھایا تاہم حال میں الیکشن کمیشن کے اندر سے اٹھنے والی آواازوں سے لوگوں کے خدشات کو مزید تقویت ملی ہے۔بھارتی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے غیر قانونی اقدامات کے خلاف الیکشن کمیشن میں موجود مزید دو الیکشن کمشنرز نے بارباراعتراضات اٹھائے ہیں لیکن ان کی بات نہیں سنی گئی اورچیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے بی جے پی کے ہرحکم کی آنکھیں بند کرکے تعمیل کی۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button